ڈاکٹر ڈیوٹیاں بروقت اور ذمہ داری کیساتھ انجام دیں،ڈپٹی کمشنر کیچ

تربت(این این آئی)ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت تربت ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹروں اور متعلقہ افسران کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہسپتال میں طبی سہولیات، ڈاکٹروں کی حاضری، ایمرجنسی سروسز اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے تمام ڈاکٹروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنی ڈیوٹیاں بروقت اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے خاص طور پر ایمرجنسی سروسز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹے ڈاکٹرز کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی مریض یا اس کے لواحقین کو شکایت کا موقع نہ ملے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی میں کسی بھی ڈاکٹر کی غیر حاضری برداشت نہیں کی جائے گی اور اس صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی، مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق، پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر غنی بلوچ سمیت مختلف شعبہ جات کے سربراہان نے شرکت کی۔ڈاکٹروں نے اجلاس کو بتایا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر او پی ڈی سروسز باقاعدگی سے فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ایم ایس ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ڈاکٹرز کی حاضری کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر حاضری کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ایم ایس نے بتایا کہ تربت ٹیچنگ ہسپتال 350 بستروں پر مشتمل ہے جہاں شعبہ حادثات میں روزانہ 400 سے زائد مریض آتے ہیں، جبکہ او پی ڈی میں روزانہ تقریباً 2 ہزار مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ تاہم کم بجٹ کے باعث ایمرجنسی میں ادویات کی شدید قلت ہے جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں ڈاکٹروں کو اپنی حاضری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اے آئی سسٹم کے ذریعے حاضری لگانے کی تجویز بھی پیش کی، جسے سراہا گیا۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ تمام افسران اور ڈاکٹرز عوام کی خدمت کے لیے تعینات ہیں اور صحت کے شعبے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر ایم ایس نے ہسپتال کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جلد ہی بہتری کے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ ہسپتال کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی بھی زیر غور ہے تاکہ بجلی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں