متحدہ عرب امارات میں اپریل کے مہینے میں ایندھن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں ڈیزل کی قیمت 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے تیل کی مارکیٹ پر بُرا اثر پڑا ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں ماہ بہ ماہ تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 70 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
متحدہ عرب امارات میں متعلقہ حکام نے ڈیزل کی قیمتوں کو ڈی ایچ 2.72 سے بڑھا کر مارچ میں ڈی ایچ 4.69 فی لیٹر کردیا جس سے ماہانہ 72.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح سپر 98 ڈی ایچ 2.59 سے بڑھ کر ڈی ایچ 3.39 ہو گیا جو کہ 30.9 فیصد اضافہ دکھاتا ہے جب کہ اسپیشل 95 ڈی ایچ 3.28 (32.3٪ تک) اور ای-پلس 91 سے ڈی ایچ 3.20 (33.3٪ تک) بڑھ گیا ہے۔
تاریخی طور پر امارات میں ایندھن کی قیمتیں 2025 اور 2026 کے اوائل تک نسبتاً مستحکم رہیں تاہم ایران جنگ کی وجہ سے اب تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ پورے خطے میں نقل و حمل اور لاجسٹکس کی لاگت پر وسیع اثرات مرتب کرتا ہے اور ممکنہ طور پر افراط زر کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

