مستونگ میں معذور افراد کو میڈیکل سرٹیفکیٹس کے حصول میں شدید مشکلات، ترجمان

مستونگ( رپورٹر)اسپیشل پرسن آرگنائزیشن مستونگ کے ضلعی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ میڈیکل اسسٹنٹ بورڈمستونگ کے اجلاس محض دکھاوے کےسوا کچھ نہیں ہیں۔ ان اجلاسوں میں سماعت و گویائی سے محروم افراد کو مناسب توجہ دینے کے بجائے انہیں میڈیکل کلیئرنس دینے سے گریز کیا جاتا ہے ترجمان کے مطابق، متاثرہ افراد کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ وہ کوئٹہ کے بی ایم سی ہسپتال یا شیخ زید ہسپتال سےمیڈیکل بورڈ کروائیں، حالانکہ یہ ایک غیر مناسب اور غیر مؤثر نظام ہے۔ مستونگ میں نہ تو کوئی تجربہ کار ڈاکٹر موجود ہے اور نہ ہی ایسا طریقہ کار، جو معذور افراد کا مکمل طبی معائنہ کر کے انہیں کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کر سکے۔ترجماننے مزید کہا کہ سماعت و گویائی سے محروم افراد کئی کئی دنوں تک میڈیکل اسسٹنٹ بورڈ کے اجلاس کا انتظار کرتے رہتے ہیں، لیکن جب اجلاس ہوتا ہے تو بغیر کسی معائنے کے انہیں کوئٹہ جانے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے۔ غریب اور نادار معذور افراد کے لیے کوئٹہ جانا ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ شدید مشکلات کا شکار ہیں ترجمان نے کہا کہ اگر کوئی معذور فرد بڑی مشکل سے کوئٹہ پہنچ بھی جائے، تو وہاں بھی اکثر اس کا کام کیے بغیر واپس بھیج دیا جاتا ہے، جو نہایت افسوسناک اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ترجمان نے کہا کہ ضلع میڈیکل اسسٹنٹ بورڈ کے اراکین کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث ضلع کے اکثر سماعت و گویائی سے محروم افراد معذوری سرٹیفکیٹس کےحصول سے محروم ہیں۔ بورڈ کی کارکردگی محض فوٹو سیشن تک محدود ہو کررہ گئی ہے۔آخر میں ترجمان نےمتعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیاجائے اور مستونگ میں ہی معذورافراد کے لیے مؤثر طبی سہولیات اور شفاف نظام فراہم کیاجائے تاکہ انہیں درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں