سبی میں ٹھیکیدار کی جان کو خطرات، پولیس پر عدم کارروائی کا الزام

سبی(رپورٹر )گورنمنٹ کنٹریکٹر حاجی آفتاب خلجی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں، ان کے اہلخانہ اور ساتھ دینے والوں کو سنگین جان کے خطرات لاحق ہیں جبکہ تحریری درخواست دینے کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی۔اپنی رہائشگاہ پر عزیز و اقارب کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے حاجی آفتاب خلجی نے بتایا کہ ان کا خاندان برطانوی دور سے سبی میں آباد ہے اور ان کے بزرگوں کی قبریں بھی یہیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سبی شہر کی بیشتر زمین میونسپل کمیٹی کی ملکیت ہے، جس پر دیگر شہریوں کی طرح انہوں نے بھی قانونی طور پر پٹے حاصل کر رکھے ہیں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چالیس سال سے وہ تلی روڈ نزد ایس ایس پی آفس سبی پر واقع اپنی جگہ پر قابض ہیں۔ حالیہ بارشوں سے مکان کی دیواریں متاثر ہوئیں جس کے بعد انہوں نے میونسپل کمیٹی سے اجازت لے کر تعمیراتی کام شروع کیا۔حاجی آفتاب خلجی کے مطابق 4 اپریل 2026 کو دن ایک بجے کے قریب جب مزدور کام میں مصروف تھے تو متعدد مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر آئے، جن میں جعفر سیلاچی، اللہ داد مرغزانی، ملک فقیر محمد مرغزانی، اقبال مرغزانی، عبدالحمید مرغزانی اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ افراد نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے زبردستی گھر میں داخل ہوکر انہیں اور مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، کام بند کروایا اور تعمیر شدہ حصہ گرا کر مالی نقصان پہنچایا انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان نے اسلحہ کے زور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں، جس کے بعد انہوں نے سٹی تھانے میں رپورٹ درج کروائی، تاہم موجودہ ایس ایچ او کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر مخالفین کی سہولت کاری کر رہا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران حاجی آفتاب خلجی نے کہا کہ ان کا تعلق ڈومکی گروپ سے ہے اور وہ ہر الیکشن میں اپنے خاندان اور اقارب کے ہمراہ ڈومکی خاندان کی حمایت کرتے آئے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے انہوں نے ایس ایس پی سبی، ڈی آئی جی سبی رینج، ڈپٹی کمشنر سبی، کمشنر سبی ڈویژن اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ موجودہ ایس ایچ او سٹی کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور انہیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں