لسبیلہ(بیوروچیف حفیظ دانش)اوتھل اور اس کے نواحی علاقوں میں غیر قانونی ایرانی پیٹرول کی فروخت نے ایک سنگین شکل اختیار کرلی ہے، جہاں مقامی انتظامیہ کی خاموشی نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، بیلہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت 210 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اوتھل شہر میں یہی پیٹرول 250 سے 260 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ قیمتوں میں اس واضح فرق اور بے قابو اضافے نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول مالکان کھلے عام من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں اور کسی قسم کا حکومتی کنٹرول نظر نہیں آتا۔ مقامی افراد کے مطابق، ضلعی انتظامیہ اس غیر قانونی کاروبار کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عناصر بلا خوف و خطر دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی فروخت اور اس پر من مانے نرخ مقرر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور عام شہریوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نہ صرف اس غیر قانونی کاروبار کو بند کیا جائے بلکہ سرکاری سطح پر پیٹرول کی مناسب فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

