12 امریکی سائنس دانوں کی پراسرار اموات: ایٹمی، خلائی راز خطرے میں؟

فلوریڈا کی رکن کانگریس اینا پاولینا لونا نے اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو ایکس پر خبردار کیا: کچھ تو غیر معمولی ہو رہا ہے۔‘

جنوبی کیرولائنا کی رکن کانگریس نینسی میز نے سوال اٹھایا ’سائنس دانوں کو کس نے مارا؟‘

رپبلکن پارٹی کے متعدد ارکان ان 12 امریکی سائنس دانوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جو 2022 کے بعد یا تو مر چکے ہیں یا لاپتہ ہیں اور ان سب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق جوہری یا خلائی پروگراموں اور بعض صورتوں میں خفیہ منصوبوں سے تھا۔

لونا کی پوسٹ میں مزید کہا گیا ’اگر آپ اس بات پر بے چینی محسوس کر رہے ہیں کہ کتنے سائنس دان لاپتہ ہوئے ہیں، مرے ہیں اور حالیہ خودکشیوں کے حوالے سے تو آپ کا احساس درست ہے۔‘

کچھ کیسز میں مشتبہ افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے لیکن نامعلوم معاملات کے گرد موجود راز نے سازشی نظریات کو جنم دیا ہے کیونکہ تفتیش کار ان کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کانگریس اور ایف بی آئی دونوں نے ان کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کیونکہ ممکنہ روابط کے بارے میں ابھی تک بہت کم معلومات جاری کی گئی ہیں۔

ایوان نمائندگان کی اوور سائٹ کمیٹی کے ارکان اب 10 کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس ہفتے ایف بی آئی، پینٹاگون اور محکمہ توانائی کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ ’یہ اموات اور گمشدگیاں امریکی قومی سلامتی اور سائنسی رازوں تک رسائی رکھنے والے اہلکاروں کے لیے سنگین خطرہ ہو سکتی ہیں۔‘

اوور سائٹ کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے فاکس اینڈ فرینڈز کو بتایا ’ہم جانتے ہیں دنیا بھر میں کئی ممالک ہمارے علم اور جوہری صلاحیتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ وہی لوگ تھے جو اس میدان میں سب سے آگے تھے اور اب یا تو مر چکے ہیں یا لاپتہ ہیں۔‘

افواہوں میں اس وقت شدت آ گئی جب اڑن طشتریوں (یو ایف او) سے متعلق تحقیق کرنے والے تصا کی موت کی خبر سامنے آئی، جنہوں نے 20 اپریل کو خودکشی کی، جس کی تصدیق بولڈر کاؤنٹی کورونر کے دفتر نے کی۔

ان کی موت کے بعد ایسے کیسز کی مجموعی تعداد 12 ہو گئی۔

پولیس نے بعض کیسز میں کسی مجرمانہ عمل کو خارج از امکان قرار دیا جبکہ ناسا نے کہا کہ کسی سکیورٹی خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

بعض خاندانوں نے بھی اپنے عزیزوں کے بارے میں پھیلنے والے سازشی نظریات کو مسترد کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’امید ہے کہ یہ سب محض اتفاق ہوگا۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے ان کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

کیلیفورنیا کے تین لاپتہ یا مردہ ناسا محققین اور ایک کیلٹیک ماہر فلکیات کا قتل

فرینک مائیوالڈ، مائیکل ہِکس اور مونیکا ریزا ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں کام کرتے تھے جبکہ ماہر فلکیات کارل گرل مائر کیلٹیک کے انفرا ریڈ پروسیسنگ اینڈ اینالیسس سینٹر میں کام کرتے تھے۔

یہ چاروں لاس اینجلس کے قریب پاساڈینا کے علاقے میں تھے، جن میں سے تین مر چکے ہیں اور ایک لاپتہ ہے۔

مائیکل ہکس، جو دمدار ستاروں اور سیارچوں کے ماہر تھے، 2022 تک اس لیب میں ریسرچ سائنس دان رہے۔

وہ 30 جولائی 2023 کو وفات پا گئے۔ 59 سالہ مائیکل کی موت کی وجہ کبھی عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔

ان کی بیٹی جولیا ہکس نے سی این این کو بتایا کہ ان کے والد کو ’طبی مسائل‘ لاحق تھے اور انہیں اپنے والد کی موت اور دیگر لاپتہ سائنس دانوں کے درمیان کسی تعلق کی سمجھ نہیں آتی۔

انہوں نے کہا نہ کسی منتخب نمائندے نے اور نہ ہی وفاقی اداروں نے ان سے رابطہ کیا ہے۔

61 سالہ جرمن نژاد محقق فرینک مائیوالڈ چار جولائی، 2024 کو وفات پا گئے تھے۔ ان کی موت کی وجہ بھی ظاہر نہیں کی گئی۔

60 سالہ میٹریل سائنس دان مونیکا ریزا 22 جون، 2025 کو آنگلس نیشنل فارسٹ میں ہائیکنگ کے دوران لاپتہ ہو گئیں۔

وہ ناسا لیب میں مواد کی پروسیسنگ گروپ کی ڈائریکٹر تھیں اور 1990 کی دہائی میں راکٹ انجنز کے لیے نکل پر مشتمل سپر الائے کی شریک موجد تھیں۔

ایف بی آئی کو لکھے گئے خط میں ہاؤس کی اوور سائٹ کمیٹی نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں ان کے کام کو ایک اور لاپتہ سائنس دان ریٹائرڈ ایئر فورس جنرل ولیم میک کیسلینڈ سے جوڑا گیا، جو فروری میں نیو میکسیکو کے شہر البوکرکی میں اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئے تھے۔

رپبلکن کمیٹی کے چیئرمین کومر اور رکنِ کانگریس ایرک برلسن نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کو لکھے گئے خط میں کہا ’رپورٹس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مس ریزا اور جنرل میک کیسلینڈ کے درمیان براہ راست تعلق موجود تھا۔

انہیں 2000 کی ابتدائی دہائی میں ایئر فورس کے فنڈ سے چلنے والے ایک تحقیقی پروگرام کے ذریعے ’قریبی پیشہ ورانہ تعلق‘ کا حامل قرار دیا گیا، جو ’دوبارہ استعمال کے قابل خلائی گاڑیوں اور ہتھیاروں کے لیے درکار جدید مواد‘ سے متعلق تھا۔

16 فروری کو67 سالہ معروف ماہر فلکیات اور فلکی طبیعیات دان گرل مائر کو ایک دیہی قصبے لانو میں واقع ان کے گھر کے دروازے پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

اس سائنس دان کی نمایاں دریافتوں میں ایک دور دراز سیارے پر پانی کی موجودگی کا انکشاف شامل ہے۔

29 سالہ فریڈی سنائیڈر پر گرل مائر کے قتل کا الزام عائد کیا گیا اور لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مقتول کو نہیں جانتے تھے۔

نیو میکسیکو کے 4 لاپتہ سائنس دان

ریٹائرڈ جنرل ولیم ’نیل‘ میک کیسلینڈ 27 فروری کو ہائیکنگ پر گئے اور واپس نہیں آئے۔ وہ ان چار سائنس دانوں میں شامل ہیں جو نیو میکسیکو سے پچھلے ایک سال میں لاپتہ ہوئے۔

البوکرکی کے پہاڑی دامن میں رہائش پذیر 68 سالہ جنرل ولیم میک کیسلینڈ گھر سے چمڑے کے ہولسٹر میں موجود .38 کیلیبر ریوالور اپنے ہائیکنگ بوٹس اور بٹوہ ساتھ لے کر نکلے جبکہ اپنا فون اور عینک گھر پر ہی چھوڑ گئے۔

برنالیلو کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے کسی مجرمانہ کارروائی کو خارج از امکان قرار دیا۔

تاہم میک کیسلینڈ کے کیس کے گرد سازشی نظریات اس لیے شدت اختیار کر گئے کیونکہ وہ اس سے قبل اوہائیو کے گرین کاؤنٹی میں واقع رائٹ پیٹرسن ایئر فورس بیس پر ایئر فورس ریسرچ لیبارٹری کے سربراہ رہ چکے تھے۔

یہ وہ مقام ہے جسے سازشی نظریات رکھنے والے افراد طویل عرصے سے 1947 کے روزویل ایلین طیارہ حادثے کی کہانی سے جوڑتے رہے ہیں۔

ان کی اہلیہ سوسن میک کیسلینڈ ولکرسن نے کہا کہ اس تعلق نے غلط معلومات کو جنم دیا اور اس بات کی تردید کی کہ ان کے پاس خلائی مخلوق یا یو ایف او پروگرامز سے متعلق کوئی خفیہ یا خصوصی معلومات تھیں۔

انہوں نے گذشتہ ماہ فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا ’نیل کے پاس روزویل حادثے سے متعلق ای ٹی اجسام یا ملبے کے بارے میں، جو رائٹ پیٹ پر محفوظ ہیں، کوئی خصوصی معلومات نہیں ہیں۔‘

نیو میکسیکو کی سائنس دان میلیسا کیسیاس اور انتھونی شاویز، جو دونوں لاس الاموس نیشنل لیبارٹری میں کام کرتے تھے، اب بھی لاپتہ ہیں۔

لاس الاموس وہ مقام تھا جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں سے پہلے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے امریکی حکومت کا انتہائی خفیہ مین ہیٹن پراجیکٹ چلایا گیا تھا۔

میلیسا کیسیاس 26 جون، 2025 کو اپنے آبائی علاقے رانچوس ڈی تاؤس سے لاپتہ ہوئیں، جو سانتا فے سے تقریباً 65 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

تاؤس نیوز کے مطابق 53 سالہ خاتون نے اس صبح اپنے شوہر کو لیب پر چھوڑا تھا، جہاں وہ بھی کام کرتے ہیں، اس کے بعد وہ اپنا ملازمتی بیج بھول جانے کے باعث گھر واپس آ کر آن لائن کام کرنے لگیں۔

جب اس دن ان کی بیٹی گھر واپس آئیں تو گاڑی وہاں موجود تھی لیکن وہ غائب تھیں۔ ان کا فون، پرس اور بٹوہ گھر پر ہی موجود تھا۔

نیو میکسیکو سٹیٹ پولیس نے کہا کہ انہیں کسی مجرمانہ کارروائی کا شبہ نہیں ہے۔

79 سالہ شاویز مئی 2025 کے اوائل سے لاپتہ ہیں اور ان کے ایک دوست نے ان کی گمشدگی کو ’انتہائی غیر معمولی‘ قرار دیا ہے۔

سی این این کے مطابق شاویز 2017 میں لیب سے ریٹائر ہوئے تھے، جہاں وہ بطور فورمین تعمیراتی کام کی نگرانی کرتے تھے۔

ایک تفتیش کار نے بتایا کہ کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد نہیں ملے، تاہم اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملا کہ وہ کہیں جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

کارل بکلینڈ، جنہوں نے شاویز کو اپنا ’بہترین دوست‘ قرار دیا، نے گذشتہ سال فیس بک پر لکھا ’ان کی گاڑی لاک تھی اور ڈرائیو وے میں کھڑی تھی۔

’ان کا بٹوہ، گاڑی کی چابیاں اور ذاتی اشیا گھر میں تھیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گھر سے صرف چند منٹ کے لیے نکلنے کے ارادے سے گئے تھے۔ ان کی گمشدگی انتہائی غیر معمولی ہے۔‘

دوسری جانب سٹیون گارشیا، جو البوکرکی میں کنساس سٹی نیشنل سکیورٹی کیمپس میں بطور سرکاری کنٹریکٹر کام کرتے تھے، 28 اگست سے لاپتہ ہیں۔

وہ گھر سے صرف ایک پستول لے کر نکلے تھے اور ان کے پاس نہ چابیاں تھیں اور نہ ہی فون۔

ان کا کام جوہری ہتھیاروں کے لیے غیر جوہری پرزہ جات کی تیاری سے متعلق تھا اور یہ ادارہ محکمہ توانائی کے لیے ’قومی سلامتی سے متعلق مختلف مصنوعات‘ تیار کرتا ہے۔

پولیس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ اس کیس میں کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ایم آئی ٹی کے نامور جوہری سائنس دان کا قتل، ’جینیئس‘ محقق کی خودکشی اور ایک بائیولوجسٹ کی موت

گذشتہ تین برسوں کے دوران تین ممتاز سائنس دان افسوس ناک اور پرتشدد واقعات میں جان سے گئے۔

تاہم ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو انہیں دیگر کیسز سے جوڑتا ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’غیر معمولی ذہانت‘ کی حامل اینٹی گریویٹی محقق ایمی ایسکریج کی جون 2022 میں موت کو کورونر نے خودکشی قرار دیا، جو خود کو گولی مارنے کے باعث ہوئی۔

34 سالہ سائنس دان کی ایک دوست فرینک ملبرن نے ’نیوز نیشن‘ کو بتایا کہ ایسکریج، جو الاباما کے شہر ہنٹس وِل میں رہتی تھیں، سمجھتی تھیں کہ ان کے کام کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ملبرن نے دعویٰ کیا کہ ایسکریج نے انہیں ایک پیغام میں کہا تھا ’اگر آپ کوئی ایسی رپورٹ دیکھیں کہ میں نے خود کو مارا ہے تو یقیناً ایسا نہیں ہے۔

’اگر آپ کوئی رپورٹ دیکھیں کہ میں نے زیادہ مقدار میں دوا لے لی تو ایسا بھی نہیں ہے۔ اگر آپ کوئی رپورٹ دیکھیں کہ میں نے کسی اور کو قتل کیا ہے تو ایسا بھی ہرگز نہیں ہے۔‘

ان کے والد رچرڈ ایسکریج، جو ناسا کے سابق ملازم ہیں، نے اپنی بیٹی کی موت سے متعلق سازشی نظریات کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے نیوز نیشن کو بتایا ’سائنس دان بھی دوسرے لوگوں کی طرح مرتے ہیں۔‘

دسمبر میں 47 سالہ طبیعیات دان، فیوژن سائنس دان اور ایم آئی ٹی کے پروفیسر نونُو ایف جی لوئیرو کو میساچوسٹس کے علاقے بروکلین میں ان کے اپارٹمنٹ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

بعد ازاں ان کے قاتل کی شناخت کلاڈیو مانوئل نیویس ویلینٹ کے طور پر ہوئی، جسے براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے کا بھی ذمہ دار قرار دیا گیا، جو پروفیسر نونُو ایف جی لوئیرو کے قتل سے دو دن قبل پیش آیا تھا۔

ویلینٹے اور لوئیرو نے 1995 سے 2000 کے درمیان پرتگال میں ایک ہی یونیورسٹی پروگرام میں تعلیم حاصل کی تھی۔

ویلینٹے 19 دسمبر کو نیو ہیمپشائر میں ایک سٹوریج مرکز میں مردہ حالت میں پایا گیا۔

لوئیرو کے قتل کا مقصد کبھی واضح نہیں ہو سکا۔ شادی شدہ اور بچوں کے باپ لوئیرو ایم آئی ٹی کے پلازما سائنس اور فیوژن سینٹر کے سربراہ تھے۔

فروری میں جاری ہونے والی پولیس رپورٹ میں ایک خاتون ساتھی کے حوالے سے کہا گیا کہ لوئیرو کے محکمہ توانائی سے روابط تھے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا: ’وہ اس بات سے آگاہ نہیں تھیں کہ آیا لوئیرو کے پاس ٹاپ سیکرٹ کلیئرنس تھی یا وہ محکمہ دفاع کے ساتھ کوئی کام کر رہے تھے۔‘

مارچ میں دوا ساز کمپنی نووارٹس کے بائیولوجسٹ جیسن تھامس کی لاش میساچوسٹس کی ایک جھیل سے برآمد ہوئی۔

تھامس تین ماہ سے لاپتہ تھے جب پولیس نے انہیں لیک کواناپوئٹ سے نکالا۔ ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ حال ہی میں اپنے والدین کی اموات کے صدمے سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار تھے۔

تھامس کا نام ارکانِ کانگریس کے ایف بی آئی کو لکھے گئے خط میں شامل نہیں تھا، تاہم انہوں نے ایک ’دوا ساز محقق‘ کا ذکر ضرور کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں