خلائی مشن پر تحقیق کے لیے جانا ایک اہم سنگ میل: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے چینی تعاون سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا بازوں خرم داؤد اور محمد ذیشان علی سے جمعرات کو ملاقات میں کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک ’اہم سنگ میل ہے۔‘

پاکستان کے خلائی تحقیقاتی کمیشن (سپارکو) نے بدھ کو کہا تھا کہ انسانی خلائی پرواز کے پروگرام کے تحت دو پاکستانی خلاباز تربیت کے لیے چین جا رہے ہیں جن میں سے ایک اسی سال اکتوبر میں چائنہ سپیس سٹیشن جائے گا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے خلابازوں سے گفتگو میں کہا کہ خلائی مشن پر پاکستان کی طرف سے تحقیق کے لیے جانا ایک اہم سنگ میل ہے اور میں ’پراعتماد ہوں کہ آپ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے خلابازوں سے گفتگو میں کہا کہ ’چینی توسط سے آپ کا یہ سفر دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کرے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول وزیراعظم: ’خلائی تحقیق میں پاکستان اور چین کے تعاون سے دونوں ممالک کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کے لیے تیار ہے۔‘

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں اسے ’غیر معمولی پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو خلا باز امیدوار، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی، جمہوریہ چین روانہ ہوں گے تاکہ چینی خلائی مرکز میں جدید خلائی تربیت حاصل کر سکیں۔

سپارکو کے مطابق یہ پاکستان کے خلائی سفر میں ایک بڑی کامیابی ہے، جو ملک کو ان منتخب ممالک کی صف میں شامل کرتی ہے جو انسانی خلائی پرواز کے پروگرامز میں سرگرم ہیں۔

اس تعاون کے تحت پاکستان پہلی بار چائنہ سپیس سٹیشن کے مشن میں شرکت کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن کی لانچ 2026 کے آخر میں متوقع ہے، جہاں ایک پاکستانی خلا باز شین ژو مشن میں بطور پے لوڈ ایکسپرٹ خدمات انجام دے گا۔

چینی خلائی سٹیشن کا نام ’تیانگونگ‘ ہے، جس کے معنی ’آسمانی محل‘ کے ہیں۔

چائنہ سپیش سٹیشن مشن پر قیام کے دوران پاکستانی خلا باز مائیکرو گریویٹی میں مختلف سائنسی تجربات کرے گا۔ ان تجربات میں مٹیریل سائنس، فلوئیڈ فزکس، لائف، بائیو سائنس اور بایوٹیکنالوجی شامل ہیں، جن کے ممکنہ فوائد ماحولیاتی بہتری، خوراک کی سلامتی اور صنعتی جدت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

چین کی انسانی خلائی ایجنسی نے 30 اکتوبر 2025 کو اعلان کیا تھا کہ دو پاکستانی خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت حاصل کریں گے، جن میں سے ایک کو مختصر مدت کے مشن پر چین کے خلائی سٹیشن بھیجا جائے گا۔

یہ تعاون فروری 2025 میں طے پانے والے دو طرفہ ’خلا باز تعاون معاہدے‘ کی بنیاد پر قائم ہے، جس پر وزیراعظم پاکستان کی قیادت میں دستخط کیا گیا۔

پاکستان اور چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی تعاون بڑھا ہے اور حالیہ عرصے میں پاکستان کے کئی سیٹلائٹس چین کی مختلف لانچنگ سائٹس سے خلا میں روانہ کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں