گوادرکے محنت کش ماہیگیر آج بھی بنیادی حقوق ولیبر قوانین سے محروم

گوادر (این این آئی)ضلع گوادرکے محنت کش ماہیگیر آج بھی بنیادی حقوق ولیبر قوانین سے محروم، حکومتی وعدے ادھورے،صحت کارڈ، ماہیگیر کالونی اور فلاحی اسکیمیں محض اعلانات تک محدود،بلوچستان حکومت کی یقین دہانیاں عملی شکل نہ اختیار کر سکیں۔تفصیلات کے مطابق یکم مئی یومِ مزدور کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں محنت کشوں کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بلوچستان کے ساحلی شہر اور علاقوں میں ماہیگیر برادری آج بھی بنیادی انسانی حقوق اور لیبر قوانین سے محرومی کا شکار ہے۔ سالہا سال سے حکومتی سطح پر ماہیگیروں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اعلانات کیے گئے تاہم ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مقامی ماہیگیر شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔مقامی ماہیگیروں کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صحت کارڈ کے اجرا، جدید سہولیات سے آراستہ ماہیگیر کالونی کے قیام، روزگار کے بہتر مواقع اور فلاحی اسکیموں کے وعدے تو کیے گئے مگر عملی طور پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر سے روزی کمانے والے یہ محنت کش نہ تو مناسب طبی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں اور نہ ہی انہیں سماجی تحفظ حاصل ہے۔ماہیگیر رہنماؤں کے مطابق ضلع گوادر اور اس کے نواحی علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کا انحصار ماہی گیری پر ہے مگر بڑھتی مہنگائی، غیر قانونی ٹرالنگ، اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنائے جن میں بماہیگیروں کے لیے صحت کارڈ اسکیم کے اجرا کا اعلان، گوادر میں ماہیگیر کالونی کے قیام،ماہیگیروں کے لیے سبسڈی اور مالی امداد پروگرامز کا اعلان،غیر قانونی ٹرالنگ کے خاتمے اور مقامی ماہیگیروں کے تحفظ کے دعوے،ماہیگیروں کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات اور اسکالرشپس کے وعدے، جو ابھی تک مکمل نہ ہو سکے۔یومِ مزدور کے موقع پر ماہیگیر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ اس محنت کش طبقے کو ان کا جائز حق مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں