کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یورپی یونین کی معاونت سے یونیورسٹی آف بلوچستان کے زیراہتمام گریجویشن کے شرکاء سے خطاب کرتے کہ رقبہ کے لحاظ سب سے بڑا صوبہ بلوچستان میں آبی وسائل کے انتظام کو تقویت دینے کیلئے وفاقی حکومت سے اہم فنڈز کا مطالبہ ضروری ہے۔ نئے ڈیموں کی تعمیر اور آبی وسائل کا درست انتظام کر کے پورے صوبے میں کلائمنٹ چینچ کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انسان اور فطرت کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے۔ اب معاشرے کے دیگر نوجوانوں میں ایکوسسٹم کی بحالی اور ماحولیات کی بہتری کیلئے اجتماعی احساس اجاگر کریں کیونکہ آپ نے فطرت کے محافظین کا کردار ادا کرنا ہیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سینٹر سعید الحسن مندوخیل، رکن صوبائی اسمبلی زرک خان مندوخیل، صوبائی سیکرٹری ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، ٹیم لیڈر بلوچستان واٹر ریسورس پروگرام مسٹر یلے(Yelle)، ڈاکٹر محمد عرفان خان، پروفیسر ڈاکٹر شازیہ اور ڈائریکٹر یونیورسٹی آف بلوچستان ٹریننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹر نور الامین کاکڑ سمیت آٹھ مختلف محکموں کے زیر تربیت افسران موجود تھے۔ شرکاء سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گریجویشن سرمنی کے آفیسرز کو تین مہینے تربیت کے دوران متعلقہ ماہرین نے جو سائنٹفک سوچ و اپروچ دی ہیں جس کے بعد اب آپ کی قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپ فطرت کی حفاظت کیلئے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ آپ نے ہمارے ماحولیاتی نظام کے نازک توازن، پائیدار طریقوں کی ضرورت، اور آنے والی نسلوں کیلئے ماحولیات کے تحفظ کی فوری ضرورت کے بارے میں جان لیا ہے۔ جب آپ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، یاد رکھیں کہ آپ کا ہر عمل تبدیلی کے سمندر میں ایک لہر ہے۔ آپ کی تعلیم نے آپ کو ایک سرسبز، زیادہ صحتمند معاشرے کی تعمیر کیلئے جدید آلات سے لیس کیا ہے۔ انہوں نے ترتیب پانے والے آفیسرز پر زور دیا کہ آپ ہمت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں، یہ جانتے ہوئے کہ دنیا کو آپ کے جذبے، آپ کے علم اور آپ کے عمل کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے منتظمین کو کامیاب ٹریننگ اور گریجویشن سرمنی کے انعقاد پر مبارکباد دی اور سرٹیفکیٹ اور یادگاری شیلڈز تقسیم کیے۔

