سانچ : اکبر روڈ اوکاڑہ: تعمیر نو، مسائل اور 110 فٹ سڑک کا عوامی مطالبہ

تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

اوکاڑہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ نے کئی بنیادی مسائل کو جنم دیا ہے، جن میں سڑکوں کی تنگی اور ٹریفک کی روانی سب سے اہم ہیں۔ انہی مسائل میں ایک نمایاں مثال اکبر روڈ ہے، جو نہ صرف شہر کی ایک اہم شاہراہ ہے بلکہ روزانہ ہزاروں شہریوں کے لیے آمدورفت کا مرکزی ذریعہ بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس سڑک کی تعمیر نو اور اسے 110 فٹ چوڑا کرنے کا منصوبہ زیرِ بحث ہے، جس نے عوامی، سماجی اور انتظامی سطح پر ایک بڑی بحث کو جنم دے دیا ہے۔اکبر روڈ کی مجموعی لمبائی نہر لوئر باری دوآب کی لنک روڈ سے لے کر ہارنیاں والا چوک تک پھیلی ہوئی ہے، جو شہر کے اہم علاقوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سڑک تجارتی سرگرمیوں، تعلیمی اداروں، اور رہائشی آبادی کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سڑک کی حالت زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، غیر ہموار سطح، اور سب سے بڑھ کر تجاوزات نے اس کی اصل چوڑائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اصل میں یہ سڑک کافی کشادہ رکھی گئی تھی، مگر گزشتہ کئی دہائیوں میں دکانوں، مکانوں اور دیگر غیر قانونی تعمیرات نے سڑک کے دونوں اطراف کو گھیر لیا۔ نتیجتاً، جہاں کبھی یہ سڑک وسیع تھی، وہیں اب یہ سکڑ کر بعض مقامات پر بمشکل 40 فٹ رہ گئی ہے۔ اس تنگی کے باعث نہ صرف ٹریفک جام معمول بن چکا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ایمبولینس، فائر بریگیڈ اور دیگر ایمرجنسی سروسز کے لیے راستہ بنانا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔اسی پس منظر میں حکومت کی جانب سے اکبر روڈ کی تعمیر نو اور اسے ڈبل کیریج وے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔سانچ کے قارئین کرام! اس منصوبے کے تحت سڑک کی چوڑائی 110 فٹ رکھنے کی تجویز ہے تاکہ مستقبل کی ٹریفک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دیرپا حل فراہم کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ بظاہر شہر کی ترقی، ٹریفک کی روانی اور شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔تاہم، جیسے ہی تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن کا آغاز ہوا، اس کے ساتھ ہی ایک نیا مسئلہ جنم لینے لگا۔ وہ لوگ جو کئی دہائیوں سے اس سڑک کے اطراف میں رہائش پذیر ہیں، انہوں نے اس اقدام کے خلاف آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ان کے گھر مسمار کیے گئے تو وہ بے گھر ہو جائیں گے، اور ان کے پاس کہیں اور جانے کا کوئی متبادل نہیں ہے۔یہ صورتحال ایک پیچیدہ انسانی اور سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک طرف شہری ترقی اور بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف ان خاندانوں کا مستقبل ہے جو برسوں سے یہاں آباد ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا تمام تعمیرات واقعی غیر قانونی ہیں، یا ان میں کچھ ایسی بھی ہیں جو کسی حد تک قانونی دستاویزات رکھتی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان کے ساتھ یکساں سلوک کرنا کہاں تک درست ہوگا؟عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر دو واضح آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طبقہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ سڑک کو ہر صورت 110 فٹ تک وسیع کیا جائے اور تمام تجاوزات کو بلا امتیاز ختم کیا جائے تاکہ شہر کو ایک جدید اور کشادہ سڑک میسر آ سکے۔


ان کے نزدیک یہ اقدام مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔دوسری جانب ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ متاثرہ افراد کے لیے کوئی مناسب متبادل یا معاوضہ فراہم کیے بغیر ان کے گھروں کو مسمار کرنا ناانصافی ہوگی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ایک جامع ری ہبیلیٹیشن پلان ترتیب دے، جس کے تحت متاثرین کو متبادل رہائش یا مالی امداد فراہم کی جائے۔یہاں حکومت اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ اس منصوبے کو شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے اور تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے۔ اگر واقعی سڑک کی اصل حد 110 فٹ ہے تو اس پر عملدرآمد کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی پہلو کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ایک متوازن حل یہی ہو سکتا ہے کہ جہاں واضح طور پر غیر قانونی تجاوزات ہیں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ ایسے افراد جو طویل عرصے سے وہاں مقیم ہیں اور کسی حد تک قانونی حیثیت رکھتے ہیں، ان کے لیے متبادل انتظام کیا جائے۔ اس کے علاوہ، منصوبے کی مکمل تفصیلات، نقشے اور حدبندی عوام کے سامنے لانا بھی ضروری ہے تاکہ شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔ اکبر روڈ کی تعمیر نو اوکاڑہ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اس منصوبے کو دانشمندی، شفافیت اور انسانی ہمدردی کے ساتھ مکمل کیا جائے تو یہ نہ صرف شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک نظام کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ منصوبہ ایک مستقل تنازع کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ترقی اور انسانیت کے درمیان توازن قائم کرنا ہی اصل چیلنج ہے، اور یہی کسی بھی کامیاب منصوبے کی بنیاد بھی ہونا چاہیے٭

اپنا تبصرہ بھیجیں