دنیا کی ہر بڑی ترقی،مضبوط معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی محنت شامل ہے، عبدالواحد سومرو

اوتھل (این این آئی)لسبیلہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل میں پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے زیرِ اہتمام یکم مئی، یومِ مزدور کے موقع پر ایک بھرپور مشترکہ ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف ایسوسی ایشنز اور فیڈریشنز کے عہدیداران و کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی کا آغاز ڈی سی آفس لسبیلہ سے کیا گیا، جو مین آر سی ڈی شاہراہ سے ہوتی ہوئی نیشنل بینک اوتھل کے سامنے پہنچی، جہاں یہ ایک بڑے جلسے کی صورت اختیار کر گئی۔ جلسے کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت قاری فقیر عبدالرشید نقشبندی شاذلی نے حاصل کی، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض یحییٰ بلوچ نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔اس موقع پر گرینڈ الائنس لسبیلہ کے صدر عبدالواحد سومرو، پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن لسبیلہ کے صدر قاضی صفی اللہ رونجہ، لسبیلہ یونیورسٹی اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر سلمان جاموٹ، زرعی انجینئرنگ لسبیلہ کے صدر امان اللہ جاموٹ، ایریگیشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر زکریا مینگل، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے صدر امام بخش خاصخیلی اور ایریگیشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری برکت علی جاموٹ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے تفصیلی خطابات میں مزدوروں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی ہر بڑی ترقی اور ہر مضبوط معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی انتھک محنت شامل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج بھی مزدور طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے، مہنگائی کے اس دور میں مزدور کی اجرت اس کے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مزدور دن رات محنت کرکے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن انہیں نہ تو مکمل روزگار کا تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت فوری طور پر کم از کم اجرت میں اضافہ کرے، مزدوروں کے لیے سوشل سیکیورٹی اور پنشن کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، اور تمام اداروں میں لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مزدوروں کو متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی، کیونکہ اجتماعی آواز ہی مسائل کے حل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو بھی اس جدوجہد کا حصہ بننے کی تلقین کی تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں محنت کی قدر ہو اور مزدور کو اس کا جائز حق مل سکے۔ریلی کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مزدوروں کے حقوق کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں