گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان ایک متحرک اور عوام دوست سیاستدان

تحریر: ایم ایم علی
پاکستان کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جو خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہیں، مگر ان کے اثرات دور تک محسوس ہوتے ہیں۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر میں ثابت قدمی دکھائی اور گورنر پنجاب کے عہدے پر رہتے ہوئے ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔سردار سلیم حیدر خان کا تعلق ایک ایسے سیاسی پس منظر سے ہے جہاں عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ وہ طویل عرصے سے سیاست سے وابستہ ہیں اور مختلف ادوار میں عوامی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کی سیاست کا مرکز ہمیشہ عام آدمی کے مسائل اور ان کے حل پر رہا ہے۔
گورنر پنجاب کا عہدہ بظاہر ایک آئینی اور رسمی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس منصب پر رہ کر بھی مثبت کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ سردار سلیم حیدر خان نے اس عہدے کو صرف رسمی نہیں رکھا بلکہ سماجی اور عوامی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ وہ خاص طور پر تعلیم، صحت اور نوجوانوں کی فلاح میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اٹک میں انہوں نے اہم ترقیاتی کام کروائے ہیں، جن میں تین یونیورسٹیاں، ایک میڈیکل کالج، ایک ڈائلیسز سینٹر، کئی فلٹر پلانٹس، اور فتح جنگ سے اٹک اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب تک دو رویہ سڑکیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی فلاحی منصوبے مکمل کیے گئے۔ گورنر کے طور پر انہوں نے 200 سے زائد ملازمین کو عمرہ کی سعادت کے لیے بھی بھجوایا ہے۔ گورنر ہاؤس میں بڑے پیمانے پر افطار ڈنرز اور درود و نعت کی محافل کا انعقاد بھی ان کے معمول کا حصہ ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا نرم لہجہ اور برداشت ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں جہاں تلخ بیانات عام ہو چکے ہیں، وہاں ان کا معتدل انداز ایک مثبت مثال ہے۔ وہ اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن سمجھتے ہیں، نہ کہ دشمنی۔ یہی سوچ ایک اچھے سیاستدان کی پہچان ہوتی ہے۔پنجاب پاکستان کی معیشت اور سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں مسائل بھی زیادہ ہیں اور عوام کی توقعات بھی۔ ایسے میں گورنر کا کردار اہم ہو جاتا ہے، خاص طور پر وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھنے میں۔ سردار سلیم حیدر خان نے اس حوالے سے ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ معاملات میں توازن برقرار رہے۔
ٓٓ اس کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں ان کی دلچسپی قابل ذکر ہے۔ مختلف جامعات کے چانسلر کی حیثیت سے انہوں نے تعلیمی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم دی جائے تو ملک کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ اسی لیے وہ تعلیمی اصلاحات اور طلبہ کی سہولیات پر توجہ دیتے ہیں۔صحت کے شعبے میں بھی ان کی توجہ نظر آتی ہے۔ وہ ہسپتالوں کے دورے کرتے ہیں اور مریضوں کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے ہدایات دیتے ہیں۔ اگرچہ گورنر کے اختیارات محدود ہوتے ہیں، لیکن وہ ایک بااثر آواز کے طور پر مسائل کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔
سردار سلیم حیدر خان کا عوام سے رابطہ بھی مضبوط ہے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے رکھے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں سے جڑے رہیں اور ان کے مسائل سنیں۔ آج کے دور میں یہ بات بہت اہم ہے کیونکہ اکثر سیاستدان اقتدار میں آ کر عوام سے دور ہو جاتے ہیں۔تاہم، ان کے لیے بھی چیلنجز موجود ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں عدم استحکام، معاشی مسائل اور عوامی توقعات کا دباؤ ہر عہدے دار کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ ایسے حالات میں اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ ایک رہنما ان مسائل کا مقابلہ کیسے کرتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گورنر کا عہدہ اختیارات کے لحاظ سے محدود ہوتا ہے، اس لیے بعض اوقات عوام کو فوری نتائج نظر نہیں آتے۔ لیکن اس کے باوجود سردار سلیم حیدر خان اپنی حدود میں رہتے ہوئے بہتر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج کے دور میں ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کام کرے۔ سردار سلیم حیدر خان کی سیاست میں یہ عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں جو نظام کے اندر رہ کر مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ گورنر پنجاب کے طور پر ان کا کردار ایک متوازن، سنجیدہ اور عوام دوست قیادت کی مثال ہے۔ اگر وہ اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھتے ہیں تو نہ صرف اپنے عہدے کا وقار بڑھائیں گے بلکہ عوام کے دلوں میں بھی اپنی جگہ مضبوط کریں گے۔ پاکستان کو ایسے ہی رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی خدمت کریں۔ سردار سلیم حیدر خان کا اب تک کا سفر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، اور یہی کسی بھی عوامی رہنما کی اصل پہچان ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں