فرانس نے اپنے جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار بحری جہاز چارلس ڈیگال کو آبنائے ہرمز کے قریب ممکنہ دفاعی مشن کے لیے روانہ کر دیا ہے۔
فرانسیسی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ جنگی بحری جہاز اس وقت نہر سویز کے جنوب سے گزرتے ہوئے بحیرہ احمر کی جانب بڑھ رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق فرانس اور برطانیہ خطے میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت بحال کرنے کے لیے ایک کثیر القومی مشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اسے صرف اسی صورت میں فعال کیا جائے گا جب خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
آبنائے ہرمز اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور توانائی کی ترسیل اسی اہم سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ حالیہ کشیدگی اور بحری خطرات کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپی ممالک کی جانب سے اس قسم کی بحری تیاری خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور عسکری کشیدگی کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں تجارتی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

