اے آر طارق
پنجاب کی دھرتی کبھی صرف فصلوں کی زرخیزی سے نہیں پہچانی جاتی تھی۔ اِس کی اصل پہچان اِس کے لوگوں کے دل تھے۔ وہ دل جن میں انسان کے لیے بھی جگہ تھی اور بے زبان مخلوق کے لیے بھی۔ یہاں شام ڈھلے گلیوں میں گھومتے کتے صرف جانور نہیں سمجھے جاتے تھے بلکہ اِس معاشرے کی زندگی کا حصہ ہوتے تھے۔ بچے اِن کے ساتھ کھیلتے، بوڑھے اِنہیں روٹی ڈالتے، عورتیں بچا ہوا سالن اِن کے لیے صحن کے کونے میں رکھ دیتیں۔ یہ وہ معاشرہ تھا جہاں انسان اپنی انسانیت کو صرف مسجدوں میں نہیں بلکہ اپنی مخلوق کے ساتھ برتاؤ میں ثابت کرتا تھا مگر آج اُسی پنجاب میں سرکاری گاڑیوں، زہریلے ٹیکوں، گولیوں اور سفاک مہمات کے ذریعے جس طرح کتوں کو مارا جا رہا ہے۔ وہ صرف جانوروں کا قتل نہیں، یہ انسانیت کا جنازہ ہے جو سرکاری فائلوں اور بیوروکریسی کی بے حس میزوں کے درمیان اٹھایا جا رہاہے۔افسوس اِس بات کا نہیں کہ مسئلہ موجود ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ ِاس مسئلے کا حل ظلم کو سمجھ لیا گیاہے۔ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنی نااہلی، اپنی ناقص منصوبہ بندی اور اپنی ناکام پالیسیوں کا بوجھ اِن بے زبان جانوروں پر ڈال رہی ہے جو اپنی صفائی میں ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے؟ شہروں میں آوارہ کتوں کی تعداد اگر بڑھی ہے تو اِس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ کتا جو سڑک پر پیدا ہوا؟ یا وہ نظام جس نے کبھی جانوروں کی افزائش روکنے، اِن کی ویکسینیشن کرنے، اِن کے لیے شیلٹر بنانے اور جدید سائنسی طریقے اپنانے کی زحمت ہی نہیں کی؟ حکومت نے برسوں تک اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی اور آج اپنی ناکامی چھپانے کے لیے موت بانٹ رہی ہے۔یہ منظر صرف خوفناک نہیں شرمناک بھی ہیں۔ گلیوں میں زہر کھا کر تڑپتے ہوئے جانور، پانی کے لیے ہانپتے کتے، بچوں کے سامنے دم توڑتی مخلوق اور اِن سب کے درمیان خاموش کھڑی وہ ریاست جو خود کو مہذب بھی کہتی ہے اور اسلامی بھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس اسلام میں بے بسی کو گولی مارنے کی اجازت دی گئی ہے؟ کس شریعت نے یہ کہا کہ کمزور کو ختم کر دو کیونکہ تم طاقتور ہو؟ ہمارے نبی ﷺ نے تو جانوروں پر رحم کو ایمان کا حصہ بنایا تھا۔ ایک پیاسی کتیا کو پانی پلانے والے شخص کے لیے جنت کی خوشخبری دی گئی، ایک بلی کو بھوکا مارنے والی عورت کے لیے عذاب کی وعید سنائی گئی مگر یہاں پورے پورے شہر اجتماعی بے رحمی کے قبرستان بنائے جا رہے ہیں اور حکومت خاموش نہیں بلکہ اِس ظلم کی سرپرست بنی ہوئی ہے۔یہ بیوروکریسی آخر کس مٹی کی بنی ہے؟ کیا اِن دفتروں میں بیٹھے لوگوں کے دل پتھر کے ہو چکے ہیں؟ کیا اِن کے گھروں میں بچے نہیں؟ کیا وہ یہ سوچتے بھی ہیں کہ جب ایک بچہ اپنی گلی میں ایک تڑپتے ہوئے کتے کو مرتے دیکھتا ہے تو اُس کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے؟ ہم نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں؟ یہی کہ طاقتور کو حق حاصل ہے کہ وہ کمزور کو ختم کر دے؟ آج جانوروں پر ظلم معمول بن جائے گا تو کل انسانوں پر ظلم بھی معمول ہی لگے گا۔ بے حسی کبھی ایک جگہ نہیں رکتی، وہ پورے معاشرے میں زہر کی طرح پھیلتی ہے اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اِس ظلم کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شہر صاف ہو رہے ہیں۔خطرہ کم ہو رہا ہے۔ عوام محفوظ ہو رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر کسی معاشرے کی صفائی لاشوں پر کھڑی ہو تو کیا وہ واقعی مہذب کہلانے کے قابل رہ جاتا ہے؟ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اِس مسئلے کے حل کے لیے سائنسی اور انسانی راستے اختیار کیے۔ وہاں جانوروں کو مارنے کے بجائے اُن کی نس بندی کی جاتی ہے۔ ویکسینیشن ہوتی ہے۔ شیلٹر قائم کیے جاتے ہیں۔ مقامی حکومتیں اور فلاحی ادارے مل کر مسئلے کو قابو کرتے ہیں مگر یہاں آسان ترین راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ قتل کرو، ختم کرو، دفن کرو اور اگلے دن فائل بند کر دو۔یہ صرف جانوروں کی ہلاکت نہیں، یہ ریاستی سوچ کی عکاسی ہے۔ ایک ایسی سوچ جو ہر مسئلے کا حل طاقت میں ڈھونڈتی ہے۔ جہاں مکالمے کے بجائے ڈنڈا، حکمت کے بجائے گولی اور منصوبہ بندی کے بجائے زہر استعمال کیا جاتا ہے۔ آج کتے مارے جا رہے ہیں۔کل شاید کسی اور کمزور طبقے کو غیر ضروری قرار دے دیا جائے۔ ظلم ہمیشہ ایک ہی فلسفے سے جنم لیتا ہے طاقتور کی سہولت، کمزور کی موت۔قدرت کا بھی ایک نظام ہے۔ یہ زمین صرف انسان کی جاگیر نہیں۔ ہر جاندار اِس نظام کا حصہ ہے۔ جب انسان اپنی انا میں آ کر قدرت کے توازن کو بگاڑتا ہے تو اُس کے نتائج صرف ماحول تک محدود نہیں رہتے، انسان کے دل بھی ویران ہو جاتے ہیں۔ جب کسی معاشرے سے رحم ختم ہو جائے تو وہاں برکت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر وہاں نفرت بڑھتی ہے۔ تشدد بڑھتا ہے۔ بے سکونی بڑھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں زیادہ دیر مہذب نہیں رہ سکیں جنہوں نے اپنے دلوں سے رحم کو نکال دیا تھا۔حکمرانوں کو شاید یہ سب محض ایک انتظامی معاملہ لگتا ہو مگر حقیقت میں یہ اخلاقی تباہی ہے۔ اقتدار صرف سڑکیں بنانے اور فائلوں پر دستخط کرنے کا نام نہیں۔ اقتدار کی اصل آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ کمزور کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ ایک حکومت کی عظمت اُس کے محلات سے نہیں، اُس کے رحم سے ناپی جاتی ہے۔ اگر ایک ریاست اپنی بے زبان مخلوق تک کو تحفظ نہیں دے سکتی تو وہ انسانیت کے کس درجے پر کھڑی ہے؟آج ضرورت اِس بات کی نہیں کہ مزید زہر خریدا جائے یا مزید گولیاں چلائی جائیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت اپنے ضمیر کا پوسٹ مارٹم کرے۔ اِن افسران کو ایک دن اِن گلیوں میں کھڑا ہونا چاہیے جہاں زہر سے تڑپتے ہوئے جانور آخری سانس لیتے ہیں۔ اِنہیں اِن آنکھوں میں جھانکنا چاہیے جن میں صرف خوف، تکلیف اور بے بسی ہوتی ہے۔ شاید اِس کے بعد انہیں احساس ہو کہ فائلوں میں لکھا ہوا”آپریشن کامیاب“دراصل انسانیت کی ناکامی ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرے کی اخلاقیات کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین طبقے کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے اور جانور تو انسان سے بھی زیادہ بے بس ہیں۔ وہ عدالت نہیں جا سکتے، احتجاج نہیں کر سکتے، میڈیا پر آ کر اپنی بات نہیں رکھ سکتے۔ اُن کی طرف سے بولنا انسان کا فرض ہے۔ اگر آج بھی اہلِ قلم، سماجی کارکن، علما، اساتذہ اور باشعور لوگ خاموش رہے تو یہ خاموشی بھی جرم سمجھی جائے گی۔پنجاب کو دوبارہ وہ پنجاب بنانا ہوگا جہاں رحم شرمندہ نہ ہو۔ جہاں بچوں کو نفرت نہیں، محبت سکھائی جائے۔ جہاں حکومت طاقت کے نشے میں اندھی ہونے کے بجائے انسانیت کی روشنی میں فیصلے کرے۔ جہاں ایک بھوکے جانور کو روٹی دینا باعثِ فخر ہو نہ کہ اُسے مار دینا انتظامی کامیابی سمجھاجائے۔اگر آج بھی ہم نے خود کو نہ بدلا تو آنے والا وقت ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گا جس نے اپنی سہولت، اپنی بے حسی اور اپنی جعلی ترقی کے لیے انسانیت کو دفن کر دیا تھا۔ پھر شاید سڑکیں صاف ہوں مگر دل اُجڑ جائیں۔ شہر محفوظ ہوں مگر روحیں مر جائیں اور جب کسی معاشرے کی روح مر جائے تو وہاں زندہ رہنے والے لوگ بھی صرف چلتی پھرتی لاشیں رہ جاتے ہیں۔
artariq2018@gmail.com
03024080369

