تحریر: محمد مظہررشید چودھری (03336963372)
ترقی یافتہ د یا میں ٹیک الوجی کو ا سا ی ز دگی میں آسا یاں پیدا کر ے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی جدید سہولت بعض اوقات خوف، ہراسگی اور ذہ ی اذیت کا سبب ب جاتی ہے۔ موبائل فو، سوشل میڈیا اور ا ٹر یٹ ے جہاں فاصلے سمیٹ دیے ہیں، وہیں ا ذرائع کے م فی استعمال ے خصوصاً خواتی اور وجوا طالبات کے لیے ئے خطرات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ سائبر ہراسم ٹ آج پاکستا سمیت پوری د یا کا ایک س گی سماجی اور قا و ی مسئلہ ب چکا ہے، جس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود ہیں رہتے بلکہ پورے خا دا اور معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔اوکاڑہ یو یورسٹی کے ووم ڈویلپم ٹ س ٹر کے زیر اہتمام م عقدہ سیمی ار اسی اہم مسئلے کی جا ب توجہ دلا ے کی ایک مثبت اور بروقت کوشش تھی۔ یہ امر خوش آء د ہے کہ تعلیمی ادارے اب صرف صابی تعلیم تک محدود ہیں رہے بلکہ وجوا سل کو سماجی، اخلاقی اور قا و ی شعور دی ے کی ذمہ داری بھی بھا رہے ہیں۔ سیمی ار میں طالبات کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وجوا سل اس حساس موضوع پر آگاہی حاصل کر ا چاہتی ہے اور اپ ے تحفظ کے لیے س جیدہ بھی ہے۔اس سیمی ار کی خاص بات مہما سپیکر مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ کا مدلل اور حقیقت پس دا ہ خطاب تھا۔ ا ہوں ے ہ صرف سائبر ہراسم ٹ کی مختلف صورتوں کی شا دہی کی بلکہ طالبات کو یہ شعور بھی دیا کہ خاموشی کسی مسئلے کا حل ہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں اکثر متاثرہ خواتی بد امی یا خوف کے باعث ایسے جرائم رپورٹ ہیں کرتیں، جس کی وجہ سے مجرم مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ے بالکل درست کہا کہ آ لاء بلیک میل گ، جعلی اکاؤ ٹس ب ا ا، تصاویر اور ویڈیوز کا غلط استعمال، ازیبا پیغامات بھیج ا اور کردار کشی جیسے جرائم صرف اخلاقی برائیاں ہیں بلکہ قابلِ سزا قا و ی جرائم ہیں۔سا چ کے قارئی کرام! یہ حقیقت بھی اپ ی جگہ ا تہائی اہم ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال وجوا سل کو خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ بعض اوقات معمولی لاپرواہی ا سا کی جی ز دگی کو شدید متاثر کر دیتی ہے۔ جعلی ل کس، غیر محفوظ ایپس اور امعلوم افراد سے رابطے وجوا وں کو ایسے جال میں پھ سا دیتے ہیں جہاں سے کل ا آسا ہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں والدی، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچوں اور وجوا وں کی درست رہ مائی کریں۔پاکستا میں ’الیکٹرا ک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016‘ یع ی پیکا قا و سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے ایک اہم قا و ی ڈھا چہ فراہم کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بڑی تعداد میں لوگ اس قا و سے اواقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے متاثرہ افراد یہ جا تے ہی ہیں کہ وہ قا و ی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔ اوکاڑہ یو یورسٹی کی طالبہ سو یا وٹو کی جا ب سے ’ای سی سی آئی اے‘ میں شکایت درج کروا ے کے مرحلہ وار طریقہ کار پر دی جا ے والی بریف گ اس سیمی ار کا ہایت مفید حصہ تھی۔ ا ہوں ے طالبات کو یہ آگاہی دی کہ اگر کوئی شخص سائبر ہراسم ٹ کا شکار ہو تو سب سے پہلے شواہد محفوظ کرے، متعلقہ ادارے سے رابطہ کرے اور قا و ی کارروائی سے ہرگز ہ گھبرائے۔حقیقت یہ ہے کہ قا و اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب عوام اس سے آگاہ ہوں۔ صرف قوا ی ب ا دی ا کافی ہیں بلکہ ا پر عملدرآمد اور عوامی شعور بیدار کر ا بھی ضروری ہے۔ آج کے دور میں ڈیجیٹل تعلیم کے ساتھ ڈیجیٹل اخلاقیات کی تعلیم بھی اگزیر ہو چکی ہے۔ وجوا وں کو یہ سمجھا ا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا محض تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ایک غلط پوسٹ، جھوٹی معلومات یا کسی کی جی ز دگی میں مداخلت کسی کی پوری ز دگی کو متاثر کر سکتی ہے۔مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ے اپ ے خطاب میں جس اعتماد اور جرات کے ساتھ طالبات کو اپ ے حقوق کے تحفظ کا پیغام دیا، وہ قابلِ تحسی ہے۔ معاشرے میں ایسی آوازوں کی ضرورت ہے جو خواتی کو خوف کے بجائے حوصلہ دیں اور ا ہیں یہ احساس دلائیں کہ قا و ا کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتی کو بااختیار ب ا ے کے لیے صرف عروں سے کام ہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات اور مسلسل آگاہی مہمات کی ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر و فوکل پرس ووم ڈویلپم ٹ س ٹر اوکاڑہ یو یورسٹی سمیرۃ الحس، فی میل ایمبیسیڈر م احل شاہد،مس مصباح اور دیگر مقرری ے بھی سیمی ار سے خطاب کیا۔ووم ڈویلپم ٹ س ٹر اوکاڑہ یو یورسٹی کی یہ کاوش اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس ے طالبات میں قا و ی شعور اجاگر کر ے کے ساتھ ا ہیں اعتماد بھی فراہم کیا۔ ایسے سیمی ار وجوا سل کو صرف معلومات ہی ہیں دیتے بلکہ ا ہیں معاشرے کا باشعور اور ذمہ دار شہری ب ا ے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر ہراسم ٹ جیسے مسائل کو صرف خواتی کا مسئلہ سمجھ ے کے بجائے پورے معاشرے کا مسئلہ تصور کیا جائے۔ کیو کہ جب ایک فرد عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے تو دراصل پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل کر ا ہوگی جہاں اختلافِ رائے ہو مگر تہذیب بھی ہو، آزادی ہو مگر ذمہ داری بھی ہو، اور ٹیک الوجی ہو مگر ا سا یت کے دائرے میں۔اگر تعلیمی ادارے، والدی، قا و افذ کر ے والے ادارے اور میڈیا اسی طرح مل کر شعور بیدار کرتے رہے تو یقی اً وہ د دور ہیں جب سوشل میڈیا خوف اور ہراسگی کے بجائے علم، آگاہی اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ ب ے گا٭


