علامہ ابتسام الہٰی ظہیر
”دنیائے اسلام کا ہر فرد مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے بیتاب ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی اور استحصال پر ہر درد مند شخص اپنے دل میں ایک کسک محسوس کرتا ہے‘‘۔ یہ کہنا تھا سعودی عرب کے سفیر کا۔ نواف سعید المالکی ایک ملنسار اور متحرک شخصیت ہیں اور کئی برسوں سے پاکستان میں سفارت کاری کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جہاں وہ سعودی عرب کی سرکاری سطح پر نمائندگی کرتے ہیں‘ وہاں تمام طبقاتِ زندگی کے لوگوں کو بھی کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ اپنے وسیع تعلقات‘ میل ملاقات اور کھلے دل سے میزبانی کی وجہ سے معروف ہیں۔ سعودی سفارت خانے کے زیر اہتمام قومی ڈے کی سالانہ تقریبات اور ان کے علاوہ جب کبھی سعودی عرب سے کوئی معزز مہمان پاکستان آتا ہے تو اس کے اعزاز میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے‘ جس میں ملک کے تمام مذہبی طبقات کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ ماضی میں ائمہ حرمین‘ رابطہ عالم اسلامی کے نمائندگان اور اہم علماء کرام کی پاکستان آمد کے موقع پر بہت سی یادگار تقریبات کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔
پانچ مئی کو سعودی سفیر کے گھر میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمانِ خصوصی مسجد اقصیٰ کے امام اور فلسطین کے چیف جسٹس تھے۔ اس موقع پر جہاں بہت سے مسلم ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا‘ وہیں پاکستان کی نمایاں مذہبی شخصیات کو بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ حافظ طاہر اشرفی‘ مولانا زاہد محمود قاسمی‘ مولانا فضل الرحمن خلیل‘ برادرِ اصغر حافظ ہشام الٰہی ظہیر اور مولانا عتیق الرحمن کشمیری سمیت متعدد اہم دینی شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کی۔ رات نو بجے شروع ہونے والی اس خوبصورت اور باوقار تقریب میں جہاں بہت سے احباب سے ملنے کا موقع ملا وہیں سعودی سفیر نے اسلام‘ پاکستان اور قبلۂ اول مسجد اقصیٰ سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور فلسطین پر ہونے والے مظالم کی کھل کر مذمت کی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر جہاں تمام مسلم ممالک اس قضیے کے حل کے لیے بیتاب رہتے ہیں‘ وہیں پاکستان بھی اس حوالے سے اپنی بساط کے مطابق جستجو کرتا رہتا ہے اور مختلف فورمز پرفلسطین پر ہونے والے مظالم کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تحسین کی اور اس بات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا کہ مسلم ممالک کو بین الاقوامی معاملات میں یکسوئی اختیار کرنی چاہیے اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ مؤقف اپنانا چاہیے۔ سعودی سفیر نے معزز علماء کرام کا پُرتپاک انداز میں خیر مقدم کیا۔ جناب نواف سعید المالکی کا خطاب تسلسل اور معنویت سے لبریز تھا اور فصیح عربی میں ان کی گفتگو حاضرین اور شرکا کے دل پر گہرے اثرات مرتب کر رہی تھی۔ اس موقع پر فلسطین کے نمائندے نے بھی اپنی معروضات کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا اور بتلایا کہ القدس کے علاقے میں بسنے والے مظلوم مسلمان کئی عشروں سے اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر بعض علماء کرام نے بھی اپنی معروضات کو سفرا اور علما کرام کے سامنے رکھا۔ مجھے بھی اس موقع پر انگریزی زبان میں اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جنہیں کچھ ترامیم و اضافے کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:
اللہ تبارک وتعالیٰ کی یہ بہت بڑی عطا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کو عقیدے اور ایمان کی بنیاد پر اخوت کی لڑی میں پرویا ہوا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات کی آیت: 10 میں ارشاد فرمایا: ”(یاد رکھو!) سارے ایمان والے (آپس میں) بھائی بھائی ہیں‘‘۔ اگر سورۃ الحجرات کی اس آیت پر توجہ دی جائے تو مسلم قومیت کا ایک ایسا تصور ابھرتا ہے جو شرق و غرب میں بسنے والے مسلمانوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتا ہے۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمان اتحاد اور یکجہتی کی مثال تھے اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنے بھائی کا درجہ دیتا تھا لیکن افسوس کہ لسانی اور علاقائی تقسیم کی وجہ سے آج کے مسلمانوں نے اس درسِ اخوت کو فراموش کر دیا ہے۔ اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ دنیا بھر میں ظالموں کے ہاتھ کو روکا جائے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ اخوت اور یگانگت کا مظاہرہ کیا جائے اور دنیا کے کسی بھی خطے میں اگر مسلمان مجبور اور مظلوم ہوں تو ان کی مدد کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ آج دنیا کے بہت سے مقامات پر مسلمان مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں کشمیر‘ میانمار اور فلسطین سرفہرست ہیں۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول اور مسلمانوں کی محبت کا اہم مرکز ہے۔ بیت اللہ شریف کے قبلہ بننے سے قبل مسلمان بیت المقدس ہی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے شب معراج نبی کریمﷺ کو بیت اللہ شریف کے قرب سے مسجد اقصیٰ میں منتقل فرما دیا اور سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اس خوبصورت سفر کو کچھ یوں بیان فرمایا: ”پاک ہے وہ (اللہ تعالیٰ) جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے‘ اس لیے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں‘ یقینا اللہ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسجد اقصیٰ اور اس کے گرد ونوا ح کا علاقہ ایک بابرکت علاقہ ہے۔ اس مسجد میں نبی کریمﷺ نے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت بھی فرمائی اور آپﷺ امام الانبیاء اور نبی القبلتین کے شرف سے بہرہ ور ہوئے۔ یہ علاقہ ہزاروں انبیاء کرام علیہم السلام کا مسکن اور ان کی دعوت کا مرکز ومحور رہا۔ بنی اسرائیل کے انبیاء کرام اس علاقے کے گرد ونواح میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے رہے۔ چنانچہ اس علاقے کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا جہاں جذبۂ اخوت کے تحت ضروری ہے‘ وہیں ارضِ مقدس کو پنجۂ یہود سے بازیاب کرانا اہل اسلام کی ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے بازیاب کرایا تھا اور یہ مسجد عرصہ دراز تک مسلمانوں کی تولیت میں چلی آ رہی تھی لیکن بیسویں صدی میں ایک بین الاقوامی منصوبے کے تحت اس علاقے میں بسنے والی مسلم اکثریت کو دنیا بھر سے یہودیوں کی نقل مکانی کے ذریعے اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس تبدیلی پر دنیا بھر کے باشعور مسلمانوں نے بہت زیادہ کرب محسوس کیا اورعرب ریاستوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی کوشش بھی کی لیکن بدقسمتی سے عرب اسرائیل جنگ میں مسلمان بوجوہ کامیاب نہ ہو سکے اور بیت المقدس کا علاقہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اُس وقت سے لے کر آج تک القدس کے علاقے میں بسنے والے مسلمان یہود کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی بین الاقوامی سطح پر کوئی شنوائی نہیں ہے۔ مسلمانوں کو عرب وعجم کی تقسیم سے بالاتر ہو کر ارضِ مقدس کی بازیابی کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ اگر دنیا بھر کے مسلمان اس مسئلے پر یکسو ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان ارضِ مقدس کو واپس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
تمام شرکائے مجلس نے تقریب میں کیے جانے والے خطابات کو بڑی توجہ کے ساتھ سنا۔ بعد ازاں مہمانوں کے لیے ایک باوقار عشائیے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر شرکا نے مسجد اقصیٰ کے امام کے ساتھ بڑی عقیدت اور احترام سے ملاقات کی اور سعودی سفیر نے بھی مہمانوں کے ساتھ فرداً فرداً ملاقات کی۔ یوں یہ تقریب اپنے جلو میں خوبصورت یادوں کولیے مکمل ہوئی۔
Load/Hide Comments

