اداریہ:
دنیا آج سیاسی، معاشی اور سماجی اعتبار سے انتہائی تیزی سے بدل رہی ہے۔ یوکرین جنگ، غزہ میں فلسطینیوں پر جاری مصائب، افغانستان کا بحران، عرب ممالک میں مفادات کی نئی راہیں، اور بڑی طاقتوں (امریکہ، چین، روس) کے درمیان لفظی اور عملی کشمکش نے عالمی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
اس غیر یقینی صورتحال میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو حقیقت پسندی، معاشی ترجیحات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ آگے بڑھائے۔ چین کے ساتھ
جیسے منصوبے، روس سے تیل کی درآمد، اور امریکہ کے ساتھ محدود لیکن مفید تعلقات کو برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ضروری ہے۔
مزید برآں، پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنا ہو گا، اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اس کی سرزمین کسی بھی علاقائی یا عالمی تصادم کا حصہ نہ بنے۔ عالمی قرضوں، مہنگائی اور آب و ہوا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ایک متحدہ قوم کی حیثیت سے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔
آج کی عالمی صورتحال میں اگر پاکستان نے ہوشیاری، بصیرت اور سمجھداری سے کام نہ لیا تو وہ نہ صرف معاشی طور پر پیچھے رہ جائے گا بلکہ سکیورٹی خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی خود انحصاری پر توجہ دے اور عالمی تبدیلیوں کو سمجھتے ہوئے اپنی قومی بہبود کو اولین ترجیح دے۔
اس وقت ہر ملک کو اپنے مفادات کو دوسروں پر ترجیح دینی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عالمی امن اور انسانی ہمدردی کی اقدار کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ قوم کو معاشی استحکام، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل پر مرکوز رکھے اور عالمی معاملات میں ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرے۔

