مقبوضہ مغربی کنارے میں 2024 سے اب تک 174 فلسطینی بچوں کی شہادت، یونیسیف کی تشویشناک رپورٹ جاری

نیویارک: اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ جنوری 2024 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں کم از کم 174 فلسطینی بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 1,500 سے زائد بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یونیسیف کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حنان سلیمان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تقریباً ڈھائی برس کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں ہر ہفتے ایک سے زیادہ فلسطینی بچے جان سے گیا۔

انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے بچوں میں تقریباً نصف ایسے ہیں جنہیں براہِ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہونا پڑا۔ یونیسیف کے مطابق بچوں کے خلاف تشدد کے کئی واقعات بھی دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

حنان سلیمان نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یونیسیف نے ایسے واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے جن میں فلسطینی بچوں کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ فوری خطرہ نہیں تھے۔ ان کے مطابق بعض بچوں کو فرار ہونے کی کوشش کے دوران بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

یونیسیف عہدیدار نے مزید کہا کہ فلسطینی بچوں کو فائرنگ کے علاوہ مار پیٹ، چاقو کے حملوں اور مرچوں والے اسپرے جیسے تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق بچوں کے گھروں، روزگار کے ذرائع اور پانی کی بنیادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

حنان سلیمان نے بتایا کہ اسرائیلی جیل سروس کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے کم از کم 355 فلسطینی بچے اسرائیلی فوجی حراست میں ہیں، جو گزشتہ آٹھ برس میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریباً نصف یعنی 164 بچے انتظامی حراست میں ہیں۔ انتظامی حراست ایسی صورت میں ہوتی ہے جس میں کسی فرد کو باقاعدہ فردِ جرم عائد کیے بغیر یا مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

یونیسیف کے مطابق بچوں کی حراست اور ان کے خلاف تشدد کے واقعات نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بچوں کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں