بلوچستان کی موجودہ حکومت کے بارے میں رپورٹ

بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود، فی الحال گہری سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی بحرانوں سے دوچار ہے۔ یہ رپورٹ صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں حکمرانی کے بنیادی مسائل، سیکیورٹی کی ناکامیوں، اور عوام سے بڑھتے ہوئے فاصلے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

” موجودہ حکومت کو عوام “منتخب” نہیں بلکہ “چنی ہوئی” تصور کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بنیادی مسئلہ ایک سیاسی نظام ہے جس میں حقیقی عوامی منظوری کے بغیر چنے گئے یا کمزور مینڈیٹ والے سیاسی کردار کام کر رہے ہیں ۔ یہ نظام انہیں عوام کی نمائندگی کا ذریعہ نہیں، بلکہ غیر محدود اختیار اور وسائل کے غلط استعمال کا لائسنس دیتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ وسیع تاثر پایا جاتا ہے کہ حکمرانی کا موجودہ ڈھانچہ ان کی شمولیت کے بجائے انہیں خارج کرتا ہے

بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال ہے، جس میں ریکوڈک جیسے بے پناہ ذخائر شامل ہیں، لیکن دہائیوں کی حکومتی غفلت نے اس دولت کو مقامی آبادی کے لیے ترقی میں تبدیل نہیں ہونے دیا ۔

صوبے کے انسانی ترقیاتی اشاریے ملک میں سب سے کم ہیں۔ جہاں ایک طرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ترقی کے منصوبے جاری ہیں، وہیں حقیقت یہ ہے کہ:

• آدھے سے زائد گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
• 70 فیصد سے زائد آبادی کثیر جہتی غربت کا شکار ہے۔
• لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور خواندگی کی شرح دیگر صوبوں سے نمایاں طور پر کم ہے ۔

حال ہی میں کوہلو ضلع کے علاقے کہان میں 50 سے زائد سرکاری اسکولوں کے بند ہونے نے حکومت کے تعلیم کے شعبے میں “کامیابی” کے دعوؤں کو جھٹلا دیا ہے ۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ اسکول طویل عرصے سے غیر فعال ہیں اور انہیں صحت، سڑکوں اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ۔
امن و امان کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اور حکومت اس پر قابو پانے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے اسمبلی میں صورتحال کو “خانہ جنگی” سے تشبیہ دی اور کہا کہ پولیس اسٹیشنوں پر حملے، اسلحہ چھیننے اور بھتہ خوری کے واقعات معمول بن چکے ہیں ۔

جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے امن و امان کے معاملے میں مکمل طور پر ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال تین سال پہلے کے مقابلے میں “تیس گنا زیادہ خراب” ہو چکی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، شاہراہوں کی بندش، اور مسافروں کے قتل عام نے زندگی اجیرن کر دی ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے اپنے وزراء بھی اپنی حلقوں میں محفوظ سفر کرنے سے قاصر ہیں، جس سے عوام میں مزید مایوسی پھیل رہی ہے ۔

حکومت کا نقطہ نظر سیکیورٹی اور ترقی کے انضمام پر مبنی ہے، جس کے تحت ضلعی رابطہ کمیٹیاں (DCCs) بنائی گئی ہیں۔ لیکن تنقید یہ ہے کہ یہ نظام مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے بجائے ایک متوازی حکمرانی کا ڈھانچہ تشکیل دے رہا ہے ۔

ایک اور تضاد یہ دیکھنے میں آیا کہ حکومت نے اسمگل شدہ ایرانی پٹرول کی قیمت مقرر کر دی، جبکہ اپنی ہی پالیسی کے تحت اسمگلنگ کے خاتمے کا دعویٰ کر رہی تھی ۔ یہ وہم اور جہالت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت بنیادی منطق سے بھی عاری ہے ۔

موجودہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ بلوچستان کا بحران محض سیکیورٹی یا ترقی کا نہیں، بلکہ سیاسی قانونی حیثیت اور نمائندگی کا بحران ہے ۔ جب تک عوام کو یقین نہیں ہوگا کہ ان کی حکومت واقعی ان کی منتخب کردہ ہے، تب تک سڑکیں، اسکول اور اسپتال بے معنیٰ رہیں گے۔

اگرچہ حکومت 20 ارب روپے کی وصولی جیسے کچھ مثبت کاموں کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن یہ معمولی کامیابیاں وسیع پیمانے پر پائی جانے والی ناامیدی اور مایوسی کو دور کرنے کے لیے ناکافی ہیں ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شفاف انتخابات کے ذریعے حقیقی طور پر منتخب نمائندوں کو اقتدار سونپا جائے اور عوام کو ان کے وسائل پر ملکیت دی جائے، ورنہ بلوچستان اسی “وسائل کی لعنت” کا شکار رہے گا جہاں دولت کی فراوانی کے باوجود عوام محرومی کی آگ میں جل رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں