بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا 44 فیصد حصہ بنتا ہے، آج کل شدید تشدد اور مسلح مزاحمت کا میدان ہے . یہ صورتحال محض ایک قانونی یا سیکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ گہری تاریخی، سیاسی، اور معاشی ناانصافیوں کا نتیجہ ہے . اس مضمون میں ہم اس مزاحمت کی جڑوں اور موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں گے۔
تاریخی پس منظر: عدم اعتماد کی بنیاد
موجودہ تنازع کی جڑیں 1947 میں برصغیر کی تقسیم اور ریاست قلات کے پاکستان میں شامل کیے جانے کے متنازعہ عمل میں پیوست ہیں . قلات کے خان نے 12 اگست 1947 کو بلوچستان کو ایک آزاد ریاست قرار دیا تھا، اور قائد اعظم محمد علی جناح نے ابتدائی طور پر اس کی علیحدہ حیثیت تسلیم کی تھی . تاہم، مارچ 1948 میں پاکستانی فوج نے علاقے میں داخل ہو کر خان کو الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا، جسے بلوچ قوم پرستوں نے ایک دھوکہ اور غیر قانونی قبضہ قرار دیا . اس واقعے نے بلوچستان اور وفاق کے درمیان دیرپا بے اعتمادی کی بنیاد رکھی .
پہلی مزاحمت اسی سال 1948 میں شروع ہوئی، جس کے بعد 1958-59، 1963-69، اور 1973-77 میں مزید بغاوتیں ہوئیں . یہ ابتدائی تحریکیں زیادہ تر قبائلی سرداروں کی قیادت میں تھیں اور ان کا مقصد زیادہ خود مختاری اور “ون یونٹ” پالیسی کے خلاف مزاحمت تھا . 1973 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے عطاء اللہ مینگل کی صوبائی حکومت کو برطرف کر دیا، جس کے بعد ایک شدید مسلح بغاوت ہوئی جسے جنرل ضیاء الحق کے دور میں معافی کے بعد ختم کیا گیا .
موجودہ مزاحمت کا آغاز اور شدت
موجودہ دور کی مزاحمت کا آغاز 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی فوجی کارروائی میں ہلاکت سے ہوتا ہے . اس واقعے نے بلوچستان اور وفاق کے درمیان اعتماد کا پل مکمل طور پر توڑ دیا اور نوجوان نسل کو شدت پسندی کی طرف دھکیل دیا . تب سے، یہ پانچویں بغاوت مختلف شدت کے ساتھ جاری ہے . موجودہ مزاحمت کی قیادت اب روایتی سرداروں کے بجائے تعلیم یافتہ متوسط طبقہ کر رہا ہے، جس نے تحریک کو دیہی سے شہری علاقوں تک پھیلا دیا ہے .
حالیہ برسوں میں تشدد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے . اعداد و شمار کے مطابق، 2020 میں جدوجہد سے منسوب حملوں کی تعداد 32 تھی جو 2024 میں بڑھ کر 171 ہو گئی، جو چار گنا سے زیادہ کا اضافہ ہے . بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) جیسے عسکریت پسند گروہوں نے اپنی حکمت عملی اور ہتھیاروں کو جدید بنایا ہے . مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کا بمشکل قبضہ اور اپریل 2026 میں سمندری حملے کا اعلان ان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے .
مزاحمت کی بنیادی وجوہات
ماہرین کے مطابق، تشدد ایک علامت ہے، جبکہ اصل بیماری سیاسی، معاشی اور انتظامی ناکامیاں ہیں . چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1. سیاسی پسماندگی اور وسائل کا استحصال: بلوچستان پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے، جبکہ یہاں تانبے، سونے، قدرتی گیس اور کولے کے ذخائر موجود ہیں . مقامی آبادی کو ان وسائل میں سے مناسب حصہ نہیں ملتا، جس سے استحصال کا احساس شدید ہے .
2. انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: “جبری لاپتہ کرنے” اور “مارو اور پھینکو” کی پالیسیوں نے بلوچ عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے . 2016 اور 2024 کے درمیان جبری لاپتہ ہونے کے 10,500 سے زیادہ مقدمات رپورٹ ہوئے .
3. فوجی حکمت عملی کی ناکامی: سیاسی مسئلے کو فوجی طاقت سے حل کرنے کی کوشش نے صورت حال کو مزید خراب کیا ہے . 1958، 1973 اور 2006 میں فوجی آپریشنز نے عارضی طور پر بغاوت کو دبایا مگر بنیادی مسائل حل نہ کر سکے .
4. خارجی مداخلت: بھارتی ایجنسی را (RAW) اور افغانستان میں موجود غیر ملکی عناصر پر الزام ہے کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کو فنڈنگ اور پناہ فراہم کر کے عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں . تاہم، یہ مداخلت پہلے سے موجود نفرتوں کا فائدہ اٹھاتی ہے، انہیں پیدا نہیں کرتی .
موجودہ صورت حال اور مستقبل
موجودہ مزاحمت نے ایک نئی جہت اختیار کر لی ہے۔ عسکریت پسند گروہ اب سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خواتین کو اپنی طرف راغب کر رہے ہیں . بی ایل اے نے خواتین کا ایک علیحدہ ونگ بھی تشکیل دیا ہے اور خواتین خودکش حملہ آوروں کا استعمال شروع کر دیا ہے .
ماہرین کا ماننا ہے کہ محض فوجی کارروائیوں سے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں . پائیدار امن کے لیے سیاسی شمولیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، انسانی حقوق کا تحفظ، اور بلوچ قوم کو ان کے حقوق اور شناخت دینا ضروری ہے . اگرچہ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 37 فیصد بلوچ مکمل آزادی کے حامی ہیں، 67 فیصد زیادہ صوبائی خودمختاری چاہتے ہیں، جو بات چیت کی گنجائش پیدا کرتا ہے . تاہم، جب تک بنیادی وجوہات کو حل نہیں کیا جاتا، بلوچستان میں عدم استحکام کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

