بلوچستان کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنانا انصاف کا قتل ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف قانون اور آئین کے خلاف ہے بلکہ اس سے بلوچ قوم کو جان بوجھ کر مزاحمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
یہ سزا 2024 میں گوادر میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ایک فوجی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں سنائی گئی، جس میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ہجوم کو اکسانے کا کردار ادا کیا۔ تاہم، یہ مقدمہ اپنے آغاز سے ہی قانونی اور آئینی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار رہا ہے، جن میں شامل ہیں:
• :کیس کو سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر گوادر سے کوئٹہ کی جیل میں منتقل کر دیا گیا، جس نے عدالتی شفافیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ شواہد اور گواہوں کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی نے دفاعی وکیل کو موکلین سے ملاقات اور مؤثر دفاع کے مواقع سے محروم کر دیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ کی اپنے ساتھیوں کی ضمانت سے انکار ک باوجود دیگر ملزمان کو ضمانت ملنا عدالتی کارروائی میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ان پر فرد جرم میں “عوامی امن” کے تحت حراست کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے الزامات بھی لگائے گئے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے من مانی قرار دیا ہے۔
• غیر آئینی قانون کا استعمال: اس مقدمے کی بنیاد پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124-A (بغاوت) پر رکھی گئی، جسے لاہور ہائی کورٹ نے مارچ 2023 میں آئین کے بنیادی حقوق (آزادی اظہار) کے منافی قرار دے کر غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ اس کے باوجود اس کا استعمال احتجاج کو کچلنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک نیا باب ہے۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں رپورٹ ہونے والے 785 جبری گمشدگیاں، 261 افراد کا تشدد کے بعد رہا ہونا اور 121 ماورائے عدالت قتل اس جبری ریاستی پالیسی کا ثبوت ہیں۔ طلباء، اساتذہ اور صحافی اس نظامی کریک ڈاؤن کا نشانہ ہیں، جس کا مقصد آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ، جو کہ اپنے والد کے لاپتہ ہونے اور قتل کے بعد حقوق کی تحریک کا چہرہ بنیں، ان کی گرفتاری سیاسی انتقام کی مانند ہے۔ انہیں امن پسند احتجاج کی قیادت کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جسے ریاستی میڈیا اور حکام نے ایک علیحدگی پسند تنظیم (بی ایل اے) کی سہولت کار قرار دینے کی کوشش کی، جبکہ بی وائی سی اس الزام کو مسترد کرتی ہ:lll
یہ فیصلہ دراصل پاکستانی ریاست کی بلوچستان میں اصل مسائل (وسائل کی تقسیم اور مفاہمت) کو حل کرنے میں ناکامی اور اس کے نتیجے میں سخت جبری اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس مقدمے کی غیر منصفانہ کارروائی، غیر آئینی قانون کا اطلاق، اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مذمت کے باوجود سزا کو برقرار رکھنا ظاہر کرتا ہے کہ انصاف کا نظام سیاسی انتقام کا آلہ بن چکا ہے۔ یہ دباؤ اور جبر کو قانونی جواز فراہم کرتا ہے، جس سے صوبے میں عدم استحکام اور مزاحمت بڑھے گی۔

