غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری؛ حماس کے مزید دو کمانڈر شہید

غزہ میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی اور پیس بورڈ کے قیام کے باوجود اسرائیلی فوج کی جارحیت جاری ہے جس میں آج حماس کے دو اہم کمانڈر شہید ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے بتایا کہ شمالی غزہ میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں حماس کے کمانڈر خلیل جمال خلیل مناع کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حماس کمانڈر خلیل جمال خلیل اپنی تنظیم کے اسلحہ سازی شعبے کے سربراہ تھے۔

ترجمان اسرائیلی فوج کے بقول خلیل احمد خلیل جنگ بندی کے دوران حماس کی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے، اسلحہ کی تیاری اور فوجی ڈھانچے کو فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں یہ تصدیق بھی کی گئی ہے کہ گزشتہ روز ایک اور فضائی حملے میں حماس رہنما اسامہ ولید دیب محارب کو بھی نشانہ بنایا گیا جو نصیرات بٹالین میں کمپنی کمانڈر تھے۔

اسامہ محارب حالیہ دنوں میں ایسے دھماکا خیز مواد ذخیرہ کر رہے تھے جنہیں غزہ میں کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔ اسی لیے انھیں نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان اسرائیلی فوج نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے یہ دونوں کمانڈرز فوجی اہلکاروں کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکے تھے اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

تاحال حماس نے اپنے ان دونوں اہم کمانڈرز کی شہادت کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے تاہم حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فوج نے حماس کے متعدد رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے جن میں عزالدین الحدید بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں