واشنگٹن: امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ دنوں امریکا کو ایسی نئی خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے ایک مبینہ اور مخصوص ایرانی منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی حکام کو کافی عرصے سے صدر ٹرمپ کے خلاف ممکنہ حملوں سے متعلق مختلف نوعیت کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے فراہم کی جانے والی تازہ معلومات ایک نئے اور مخصوص منصوبے سے متعلق ہیں۔
اسی طرح وال اسٹریٹ جرنل نے بھی نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک نئے مبینہ منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔
یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث خطے میں بڑے تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسی دوران نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ کی ترکیہ سے روانگی کے لیے ایک مختلف طیارہ استعمال کرنے پر بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
ادھر ایرانی حکومت کی جانب سے ان میڈیا رپورٹس پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ ایران کئی برسوں سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔ جنوری 2020 میں ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے، جس کے بعد ایران بارہا انتقامی کارروائی کی بات کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ مختلف افراد کی ہدفی فہرست میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، ’وہ امریکا کے رہنما، یعنی مجھے، نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ میں نے آج صبح دیکھا کہ میں ان کی ہر فہرست میں موجود ہوں۔‘
تاحال امریکی حکومت نے اسرائیلی انٹیلی جنس سے متعلق ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

