امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سفارتی کوششوں سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا کہ قطری مذاکرات کار ایران پہنچ چکے ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بات چیت امریکا کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی میں کی جا رہی ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور حالیہ کشیدگی کی وجوہات پر بات ہوئی۔
قطری مذاکرات کار نے ایرانی حکام سے جن امور پر گفتگو کی ان میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق تنازع بھی شامل ہے جس کو بنیاد بنا کر امریکا نے ایران پر حالیہ حملے کیے تھے۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک کے حکام نے امریکی اور ایرانی عہدیداروں سے کئی مرتبہ رابطے کیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
رائٹرز کے مطابق ان ثالثی کوششوں میں قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے حکام کے شامل ہیں۔
قبل ازیں امریکا نے مسلسل دو روز تک ایران کے جنوبی علاقوں میں واقع عسکری تنصیبات، میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرون مراکز اور دارالحکومت تہران کے قریب بعض اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران پر یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کا جواب ہیں۔ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کردے گی۔
دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خلیجی ممالک مصر، اردن اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ دو روز سے جاری امریکی حملوں میں 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے جبکہ جنوبی بندرگاہی شہروں میں رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ کارروائیوں کے باوجود اشارہ دیا کہ اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے جبکہ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ دباؤ یا فوجی کارروائیوں کے دوران مذاکرات ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی تیل کی اہم اور عالمی گزرگاہ ہے اس لیے کسی بھی نئی عسکری کارروائی سے تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

