راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کےڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ 2026ء میں سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 40,348 سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈآپریشن کیے جن میں 2084 دہشت گرد ہلاک ہوئے،اس دوران بلوچستان میں 31,080 سے زائد آپریشن کئے گئے جبکہ خیبرپختونخوا میں 7,177 اور ملک کے باقی حصوں میں 2,091 آپریشن ہوئے، ملک بھر میں دہشت گردی کے کل 3,145 واقعات ہوئے جن میں سے 1,971 خیبر پختونخوا، 1,148 بلوچستان اور 26 ملک کے دیگر حصوں سے رپورٹ ہوئے، اس دوران 2,084 دہشت گرد مارے گئے، یہ تناسب اوسطاً روزانہ 10 دہشت گردوں کے مارے جانے کاہے جو کہ اب تک کا سب سے زیادہ تناسب ہے۔
جمعہ کوانسداد دہشت گردی اور سکیورٹی امور کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سکیورٹی فورسز روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کر رہی ہیں جو کہ اوسطاً 194 روزانہ ہیں۔
رواں سال کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں 819 پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا۔
ان میں 303 آرمی اہلکار، 194 کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تھا جن میں پولیس اور سول آرمڈ فورسز شامل ہیں جبکہ 322 عام شہری تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس سال کل 28 خودکش دھماکے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش بمباروں کی اکثریت جیسا کہ گزشتہ سال ہوا تھا، افغان شہری تھے۔انہوں نے کہا کہ ٹانک کے حالیہ واقعے میں افغان باشندے ملوث تھے اور کراچی کے واقعے میں بھی افغان شامل تھے، اس لیے یہ رجحان برقرار ہے۔
افغان شہری اور یہاں تک کہ ان کی سکیورٹی فورسز سے وابستہ افراد، ان دہشت گردوں میں شامل تھے جو مارے گئے، پکڑے گئے اور ان خودکش بم دھماکوں میں ملوث تھے۔پچھلے سال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025ء میں 2,597 دہشت گرد مارے گئے، اس سال اب تک 2,084 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ تقریباً نصف سال، تقریباً چار سے پانچ ماہ ابھی باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا حرکیاتی پہلو جس طرح پختہ ہو رہا ہے، جواب دے رہا ہے اور ڈیلیور کر رہا ہے۔
اگر آپ 2023ء پر نظر ڈالیں تو ہمارے شہداء اور مارے جانے والے دہشت گردوں کا تناسب ناموافق تھا، کیونکہ ہمارے اہلکاروں کی قربانیوں کے مقابلے میں بہت کم دہشت گردوں کو ختم کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ان دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو اب احساس ہو گیا ہے کہ خوشامد یا مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک بار جب وہ یہ سمجھ لیں کہ ریاست واضح کر دے تو انہیں یا تو آئین اور قانون کے سامنے ہتھیار ڈالنے چاہئیں یا پھر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، ان کی مایوسی واضح ہو جاتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ سکیورٹی آپریشنز کی فعال نوعیت نے انسداد دہشت گردی کے بہتر نتائج میں بھی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک دانستہ بیانیہ کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں اس مسئلے کو تین سوالات اور تین پہلوئوں سے جانچنا چاہوں گا۔ یہ نہ صرف بلوچستان کے لیے مخصوص مسئلہ ہے بلکہ اس کا تعلق پاکستان کی مجموعی سکیورٹی صورتحال سے بھی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ہارڈ سٹیٹ کے تصور کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہارڈ سٹیٹ کا مطلب ایک ایسی ریاست ہے جہاں آئین اور قانون سب پر یکساں لاگو ہو، جہاں تمام معاملات آئین کے مطابق سختی سے چلائے جائیں اور جہاں کوئی اشرافیہ نہ ہو۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں قانون کا اطلاق تمام شہریوں پر یکساں ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تمام ریاستی امور آئین اور قانون کے مطابق، بلا تفریق چلائے جائیں، جہاں اشرافیہ اور عام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے تو یہ ایک سخت ریاست بنتی ہے۔
ایسی ریاست سلامتی، استحکام اور شکایات کے حل کو یقینی بناتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ لوگ اکثر شکایات اٹھاتے ہیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں جن میں سے بہت سے حقیقی ہوسکتے ہیں تاہم انہوں نے زور دیا کہ بنیادی حقوق سے پہلے بنیادی ذمہ داریاں آتی ہیں۔آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق سے متعلق دفعات سے پہلے ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا بنیادی فریضہ ہے۔ یہ آئین اور قانون کی اطاعت کو ہر شہری کا ناقابل تنسیخ فرض بھی بناتا ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ آئین واضح طور پر قائم کرتا ہے کہ ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ریاست کا وفادار رہنا اور آئین و قانون کی پاسداری کرنا ہے۔ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد ہی حقوق پر بحث ہو سکتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اشرافیہ کے کچھ ارکان اور کچھ قبائلی سردار جمود کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، میں ان سب کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں، لیکن اشرافیہ اور سرداروں میں سے کچھ نہیں چاہتے کہ ایک عام شہری پڑھے، ترقی کرے، انجینئر بنے، ڈاکٹر بنے، آرمی میں بھرتی ہو، ماہر معاشیات بنے، زرعی ماہر بنے، یا کاروبار میں کامیاب ہو۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ افراد دہشت گردی کے اصل محرک تھے کیونکہ انہیں سماجی اور معاشی تبدیلی کا خدشہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خوفزدہ ہیں کہ وقت بدل رہا ہے، جتنا وہ خوفزدہ ہوتے جائیں گے، اتنے ہی زیادہ پریشان ہوتے جائیں گے اور اتنا ہی زیادہ تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ کام کرنے کا پرانا طریقہ ختم ہو چکا ہے، ہم ان کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اصل سٹیک ہولڈرز بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے، وہ حقیقی سٹیک ہولڈر نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ صرف اپنے مفادات اور اپنے خاندان کی دولت کے سٹیک ہولڈر ہیں، بلوچستان کے لوگوں کے مفاد میں نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ایسے عناصر تجارت کی آڑ میں سمگلنگ میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ کاروبار اور نام نہاد تجارت کے نام پر سمگلنگ کے عادی ہیں، وہ منشیات اور ڈیزل لاتے ہیں اور ان کی اصل قیمت پر کئی گنا فروخت کرتے ہیں۔
جب یہ غیر قانونی سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں تو وہ دہشت گردی کا سہارا لیتے ہیں اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ حالات قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور بلوچستان پھسل رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بعض اشرافیہ مراعات اور عوامی وسائل پر کنٹرول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہم سے بات کریں، ہمارے اجازت نامے بحال کریں، اپنے کاروبار دوبارہ کھولیں اور 1000 ارب روپے سے زیادہ کے اس بجٹ کا حصہ ہمیں دیں۔
پراب مزید نہیں آپ سٹیک ہولڈر نہیں ہیں، رقم بلوچستان کے لوگوں کو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سٹریٹجک اہمیت اور وافر وسائل نے اسے دشمن مفادات کا ہدف بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ بلوچستان ایک تزویراتی جغرافیائی محل وقوع کا حامل ہے، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسے نہ صرف باصلاحیت اور ترقی پسند انسانی وسائل سے نوازا گیا ہے بلکہ وسیع قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بلوچستان خوشحال ہوتا ہے تو پورا پاکستان ترقی کرتا ہے اور اسی طرح خطہ بھی ترقی کرے گا۔ اسی وجہ سے وہ اس کی ترقی کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ دہشت گرد گروپوں کے ذریعے براہ راست ملوث ہو جاتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست کی جانب سے جن گروپوں کو ’’فتنہ الہندوستان‘‘ اور ’’فتنہ الخوارج‘‘ کہا جاتا ہے، ان میں اشرافیہ اور قبائلی سرداروں کے بعض اراکین کے درمیان رضامندی کے ساتھ شراکت داری پائی جاتی ہے، جنہیں وقت بدلنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پرانے سرداری نظام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، وہ وہی نوکر، وہی ذاتی جیلیں اور وہی کنٹرول کا نظام چاہتے ہیں۔علاقائی سلامتی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان دہشت گردی کی حمایت کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان کیا مشترک ہے؟ ان میں صرف ایک چیز مشترک ہے وہ دہشت گردی ہے، ان کی سفارت کاری بھی دہشت گردی پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ دونوں عسکریت پسند گروپ نظریاتی طور پر مختلف تھے لیکن ان کا مشترکہ مقصد تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ہے، ایک قوم پرست ہے اور دوسرا ایک انتہا پسند مذہبی گروہ ہے، لیکن پروپیگنڈہ انہیں متحد کرتا ہے۔گوادر میں ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 305,000 کے قریب آبادی والے شہر میں تین یونیورسٹیاں، چار ایجوکیشن کالج، 318 سکول، پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال، ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، ایک دیہی مرکز صحت، پانچ چائلڈ ڈسپنسریاں اور 19 بنیادی صحت کے یونٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ، ایک گہری سمندری بندرگاہ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، صنعتی اور ٹیکس فری زونز، ایک کرکٹ سٹیڈیم اور کئی دیگر ترقیاتی منصوبے بھی ہیں۔تربت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شہر میں دو یونیورسٹیاں، چھ تعلیمی کالج، کیڈٹ کالج، ایک گرلز کیڈٹ کالج، متعدد سکول، نو سرکاری طبی سہولیات، ایک ٹیچنگ ہسپتال، 27 پرائیویٹ ہسپتال، ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور وسیع سڑک اور کاروباری رابطے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مجھے اتنی ہی آبادی والا کوئی دوسرا شہر دکھائیں جس میں اس سطح کا بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات موجود ہوں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 1947ء میں بلوچستان میں صرف 114 سکول تھے جبکہ آج اس میں 15 ہزار 300 سکول، 12یونیورسٹیاں، پانچ میڈیکل کالج، 145 کالج، 13 کیڈٹ کالج اور 321 ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں آزادی کے وقت صرف چھ ڈسپنسریاں تھیں لیکن اب 13 بڑے ہسپتال، 18 ٹیچنگ ہسپتال، 36 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، 56 دیہی مراکز صحت، 650 ڈسپنسریاں، پانچ کارڈیک سنٹرز، آٹھ تپ دق کے مراکز اور 24 ڈائیلاسز کے مراکز ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1947ء میں بلوچستان میں صرف 375 کلومیٹر سڑکیں تھیں جبکہ آج 24400 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں ہیں جس میں 4400 کلومیٹر سے زیادہ ہائی ویز بھی شامل ہیں۔محرومیوں کے بیانیے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا فی کس ترقیاتی بجٹ 75,000 روپے سے زیادہ ہے جو کہ تمام صوبوں میں سب سے زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں 45،000 روپے سے بھی کم ہے۔
تو پھر کس بنیاد پر اس محرومی کی داستان کو پروان چڑھایا جا رہا ہے؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد گروپوں نے مزدوروں کو نشانہ بنا کر، انفراسٹرکچر پر حملہ کرکے اور پھر یہ دعویٰ کیا کہ صوبے میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔لاپتہ افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں جبری گمشدگیوں پر انکوائری کا ایک مستقل کمیشن قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2010ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے قیام سے لے کر اب تک کمیشن کو 10,901 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ان کے مطابق تفصیلی تحقیقات سے پتہ چلا کہ بہت سی شکایات میں جبری گمشدگی شامل نہیں تھی بلکہ غلط رپورٹ کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نے باضابطہ طور پر 2,933 مقدمات درج کیے ہیں۔ ان میں سے 2,767 کو حل یا ٹریس کیا جا چکا ہے جبکہ 166 کیسز زیر تفتیش ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بھی غیر حل شدہ کیسز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان کی بچیوں کے ساتھ ایک واردات ڈال رہے ہیں، ذہنی طور پر ان کو ٹریپ کرکے ان کے ہاتھوں دہشت گردی کراتےہیں، اس کا ہمارے دین اور کلچر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، لاپتہ افراد سےمتعلق کبھی کہا جاتا ہے 10 ہزارکبھی 20 ہزارکہتے ہیں، لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن بنایا گیاجس میں درخواستیں دی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان سے لوگ خود کہتے ہمارا بھائی یا بیٹا مسنگ ہوگیا اس سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسنگ کا پتہ چلتا ہے کہ وہ بی ایل اے میں شامل ہوگیا ہے، جن مسنگ افراد کی فہرستیں دی جاتی ہیں وہ کہیں لڑائی میں مارے جاتے ہیں، کچھ مسنگ پرسنز گوادر،کوئٹہ،مستونگ میں دہشت گردی میں مارے جاتے ہیں، بلوچستان کی پولیس ان بدمعاشوں کو رگڑنے کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی300 سے زائد بوگس ویب سائٹ بلوچستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں، بوگس ویب سائٹس مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے نفرت اور تقسیم کو ہوا دے رہی ہیں، ان کے پیچھے ہندوستان کا سائبر ہوگا لیکن ہمارا بچہ بچی بھی کم نہیں، ہم بلوچستان کے عوام کو امپاور کرنا چاہتےہیں اور کر رہے ہیں، ہر سال بلوچستان میں آئی ٹی میں 10800 طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ 26 لاکھ افغان مہاجرین افغانستان واپس بھجوائے جاچکے ہیں، جانا ہے تو ویزا لیں، حکومت سے درخواست کریں، ریکارڈ پر جائیں اور واپس آئیں، ابھی تک ہم 25 ارب کےقریب سمگلڈ سامان پکڑ چکے ہیں، ہارڈ سٹیٹ میں سمگلرز کی جگہ صرف جیل میں ہے، ساڑھے 4 ہزار بندے پکڑے جو ہیومین سمگلنگ میں ملوث تھے۔انہوں نے کہا کہ گڈ گورننس کے بغیر آپ کے معاملات حل نہیں ہو سکتے، نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات ہیں جس پرتمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان کی سکیورٹی کے لیے گڈگورننس انتہائی اہم ہے، مسائل حل نہیں ہو رہے، اس کا مطلب ہے گڈ گورننس کےلیے کچھ کرنا پڑے گا،گڈگورننس کے بغیر ملک کے معاملات حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ کشمریوں کا فیصلہ پکا ہے، اب بھارت نے کچھ تو کرنا ہے، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ کے قریب سکیورٹی فورسز لگائی ہوئی ہے، 2019ء میں بھی طبیعت صاف کی تھی،2025ء میں تو اگلی پچھلی طبیعتیں صاف ہو گئیں، مقبوضہ کشمیر کے لوگ ان سے پوچھ رہےہیں پہلگام میں تمہاری سکیورٹی کدھر تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے اٹوٹ انگ ہیں، کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا، کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، جو کشمیری وہاں سے آئے وہ کیوں چھوڑ کےآئے؟ کیونکہ وہاں ظالم نظام ہے۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں ڈنڈے کے زور پر اپنی منوائیں، ریاست نے مظاہرین سے کہا کہ آپ الیکشن لڑیں،اسمبلی میں آئیں، ان کا ایجنڈا سب کے سامنے واضح ہوتا جا رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یو اے ای برادر ملک ہیں، دونوں کے بڑے گہرے تعلقات ہیں، پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات پر سوشل میڈیا پر غیرمنطقی معروضات دی جاتی ہیں، دنیا میں کوئی دو ملک ایسے نہیں ہوتےجن کا ہر چیز پر نقطہ نظر ایک ہو، پروپیگنڈا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق خاص ہے، سٹریٹجک تعلق ہے، سعودی عرب خادم حرمین الشریفین ہے، پاکستان محافظ حرمین الشریفین ہے۔انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے بارے میں جو مولانا نے بات کی وہ ناقابل فہم ہے، آپ کو لگتا ہے وہ یہ سب پیسے کے لئے کرتا ہے؟ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایسا کیوں کہا گیا، شہادت اور شہید پاکستان کی افواج کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، فلسفہ شہادت کے پیچھے آپ کی افواج اور پولیس کھڑی ہے، جو آپ کے بہادر بچے وطن کا دفاع کرتے شہید ہوئے وہ دلیر ہیں، جب نیوی کا سیلر سمندر میں ڈائیو کرتا ہے تو اپنی زندگی کی قربانی دے چکا ہوتا ہے۔

