نظام کی ناکامی کی وجہ سول و عسکری بیوروکریسی کو فیصلہ سازی میں غیر معمولی وسعت دینا ہے، رضا ربانی

سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام اور نظامِ حکمرانی کی ناکامی سے متعلق بیان نے ایک غیر ضروری اور حساس بحث کو جنم دیا ہے۔

ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر نظامِ حکمرانی ناکام ہوا ہے تو اس کی وجہ ملک میں صرف چار صوبوں کا وجود نہیں بلکہ سول و عسکری بیوروکریسی کو سیاسی کردار اور فیصلہ سازی میں غیر معمولی وسعت دینا، اختیارات کو اسلام آباد میں مرتکز کر کے وفاق کو کمزور کرنا، آمروں کو آئین میں من مانی ترامیم کی اجازت دینا، مختلف نظام ہائے حکومت پر مسلسل تجربات، اہم پالیسی فیصلے پارلیمان سے باہر کرنا، آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات نہ ہونے دینا، آئین کی خلاف ورزی، اختیارات کی ثلاثی تقسیم کو نظر انداز کرنا، قانون کی حکمرانی کے بجائے قانون کے ذریعے حکمرانی کو فروغ دینا اور صوبائی خودمختاری سے انکار جیسے عوامل ہیں۔

رضا ربانی نے کہا کہ یہ تمام عوامل محض برفانی تودے کی چوٹی ہیں جبکہ اصل مسائل اس سے کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک وفاق کے طور پر وجود میں آیا جہاں چاروں وفاقی اکائیوں نے متفقہ طور پر ریاستِ پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ پاکستان ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ریاست ہے اور اس کی وحدت اس کے تنوع میں مضمر ہے، اس لیے ایسے تاریخی حقائق کی بنیاد پر قائم ہونے والے صوبوں کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ یہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی ایک دیرینہ خواہش رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں