تحریر! چیئرمین اسلم بلوچ
اس میں کوئی شک نہیں ایک سیاستدان آنے ولی الیکشن کااور ایک رہنما آنے والی نسل کا سوچتا ہے ،
ایک حقیقی سیاسی رہنما کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ کتنے ووٹ حاصل کرتا ہے، کتنی نشستیں جیتتا ہے یا اقتدار کے ایوانوں تک کتنے عرصے کے لیے پہنچتا ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب ایک سیاسی رہنما کو اپنے سیاسی مفاد اور قومی مفاد کے درمیان انتخاب کرنا پڑے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام سیاستدان اور ایک قومی رہنما کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔
سیاسی مفادات ہر جماعت اور ہر سیاستدان کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنا، انتخابات جیتنا، عوامی حمایت برقرار رکھنا اور سیاسی قوت میں اضافہ کرنا سیاست کا حصہ ہیں۔ لیکن جب سیاسی مفاد قومی مفاد کے سامنے آ جائے تو ایک باشعور سیاسی رہنما کے لیے فیصلہ واضح ہونا چاہیے: قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دی جائے۔سیاسی مفاد پر تو سمجھوتہ ممکن ہے لیکن قومی مفاد پر سمجھوتہ ممکن نہیں
بلوچستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی زندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے اکابرین ، میر عبدالعزیز کرد ، میر یوسف عزیز مگسی ، میر غوث بخش بزنجو، سردار عطااللہ مینگل ،نواب اکبر خان بگٹی اور نواب خیر بخش مری ملک عبدالرحیم خواجہ خیل ملک فیض محمد یوسفزئی ،میر گل خان نصیر، میر محمد حسین عنقا جیسے رہنماؤں نے اپنی سیاسی زندگی میں اقتدار سے زیادہ اصول، نظریے اور قومی حقوق کو اہمیت دی۔ ان کی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ جدوجہد، جلاوطنی، پابندیوں اور جیلوں میں گزرا۔
میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم قومی کردار کے طور پر سامنے آئے۔ گورنر بلوچستان کے طور پر ان کا دور تقریباًنو ماہ کا تھا، جبکہ زندگی کے مختلف ادوار میں 23 سال انہیں قید و بند اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی سیاست کا اصل حوالہ اقتدار نہیں بلکہ سیاسی اصول اور جمہوری جدوجہد بنے۔
سردار عطااللہ مینگل ایک سال وزیر اعلی رہے جبکہ ایک دہائی تک جیلوں میں گزارے ۔
نواب اکبر خان بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور گورنر بھی رہے، لیکن ان کے اقتدار کے ادوار ان کی پوری سیاسی زندگی کے مقابلے میں انتہائی مختصر تھے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ سیاسی کشمکش، ریاستی اختلافات اور جدوجہد میں گزرا۔
اسی طرح نواب خیر بخش مری نے بھی اقتدار کے بجائے مزاحمت اور اصولی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ وہ طویل عرصے تک جلاوطنی اور سیاسی مشکلات میں رہے۔ اقتدار ان کی سیاسی زندگی کا مرکزی حوالہ نہیں بنا، بلکہ بلوچستان کے قومی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد ان کی شناخت بن گئی۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ یہ رہنما کتنے عرصے تک اقتدار میں رہے بلکہ یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے قومی مفادات کا تحفظ کس حد تک کیا : اگر سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہوتا تو ان رہنماؤں کو آج کون یاد کرتا؟
یہ سوال کوئی نہیں کرتا کہ یہ اکابرین کتنے سال وزیر، گورنر یا رکن اسمبلی رہے۔ ان کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی اصولوں، قومی حقوق اور اپنے عوام کے مفادات کے لیے کیا مؤقف اختیار کیا، کتنی مشکلات برداشت کیں اور اپنے سیاسی مفاد کے مقابلے میں قومی مفاد کو کہاں کھڑا کیا۔اسی طرح لوگ نسل درنسل وزیراعلی رہے تاریخ میں یاد ہی نہیں کی جاتی سرادر عطااللہ مینگل نواب اکبر بگٹی ڈاکٹر مالک بلوچ مجموعی طورپرچھ سال وزیراعلی رہے ان کی ایڈمنسٹریشن ، قومی مفادات کی تحفظ بلند کردار ایمانداری پر آج بھی سیاسی اختلاف ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہوکر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا
اقتدار چند سال کا ہوتا ہے، مگر اصولوں کی زندگی نسلوں تک رہتی ہے۔
یہی فرق ایک سیاستدان اور قومی رہنما کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک سیاستدان اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاست کرتا ہے، جبکہ قومی رہنما قوم کے مستقبل کے لیے سیاست کرتا ہے۔ ایک سیاستدان اپنے دور کے سیاسی فائدے کو دیکھتا ہے، جبکہ قومی رہنما آنے والی نسلوں کے مفاد کو سامنے رکھتا ہے۔بلوچستان کے ان اکابرین کی سیاسی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قیادت کا اصل معیار اقتدار میں گزارے گئے سال نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنے کے لیے برداشت کی گئی مشکلات ہیں۔
اگر ایک سیاسی رہنما ہر قومی مسئلے کو صرف اس زاویے سے دیکھے کہ اس سے میری جماعت کو کیا فائدہ ہوگا، میری مقبولیت پر کیا اثر پڑے گا یا مجھے اگلے انتخابات میں کتنے ووٹ ملیں گے، تو وہ سیاست کو ذاتی اور جماعتی مفاد تک محدود کر دیتا ہے۔
لیکن جو رہنما یہ سوچے کہ میرے آج کے فیصلے کا میری قوم، وطن اور آنے والی نسلوں پر کیا اثر ہوگا؟ وہ سیاست سے آگے بڑھ کر قیادت کے مقام پر پہنچتا ہے۔
سیاسی مفاد وقتی ہوتا ہے، قومی مفاد دائمی۔ اقتدار چند سال کا ہو سکتا ہے، مگر قوموں کے فیصلوں کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
اس لیے آج کے سیاسی رہنماؤں کے لیے بلوچستان کے ان اکابرین کی زندگیوں میں ایک بڑا سبق موجود ہے۔ اگر ایک رہنما اپنے سیاسی مستقبل، جماعتی مفاد یا اقتدار کے لیے قومی مفاد پر سمجھوتہ کرتا ہے تو وہ شاید کامیاب سیاستدان بن جائے، اقتدار بھی حاصل کر لے، لیکن تاریخ اسے لازماً قومی رہنما کا مقام نہیں دے گی۔
قومی رہنما وہی بنتا ہے جو اقتدار سے زیادہ اصولوں، سیاست سے زیادہ قوم اور اپنے مفاد سے زیادہ قومی مفاد کو اہمیت دے۔
آخرکار تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ آپ کتنے عرصے تک اقتدار میں رہے؛ تاریخ یہ پوچھتی ہے کہ جب قوم کے مفاد اور آپ کے سیاسی مفاد کے درمیان انتخاب کا وقت آیا تو آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے۔

