انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فول پروف اقدامات ناگزیر ہیں۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد(رپورٹر) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پمزہسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں نومولود بچوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف چند معصوم جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ ان والدین کے خوابوں، امیدوں اور خوشیوں کا اجڑ جانا ہے جن کے لیے ان کے ننھے فرشتے زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھے۔ انہوں نے کہا کہ نومولود بچے والدین کی امید، گھر کی خوشی اور مستقبل کا روشن چراغ ہوتے ہیں، ان معصوم جانوں کا یوں چلے جانا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پمز ہسپتال کا واقعہ اس امر کی فوری نشاندہی کرتا ہے کہ ملک بھر کے تمام ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہسپتالوں میں آگ لگنے، شارٹ سرکٹ، گیس یا آکسیجن لیکیج، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فول پروف نظام موجود ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ زندگی بچانے والے اداروں میں حفاظتی نظام کمزور ہو تو یہ خود ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کا باقاعدہ سیفٹی آڈٹ کرانا چاہیے اور جہاں حفاظتی انتظامات میں کمی یا غفلت پائی جائے وہاں فوری طور پر اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ تمام ہسپتالوں، رہائشی عمارتوں، سرکاری و نجی دفاتر اور دیگر حساس مقامات پر واضح اور قابلِ عمل حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں۔ فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر فائٹنگ آلات، بجلی کے نظام، آکسیجن سپلائی اور دیگر اہم حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کو لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ عملاً نظر آنے چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے چیک اینڈ بیلنس کا مؤثر نظام، باقاعدہ معائنہ، اچانک انسپیکشن اور ایمرجنسی ڈرلز کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عملہ فوری اور مؤثر کارروائی کر سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت کسی صورت قابلِ معافی نہیں، کیونکہ غفلت کا نتیجہ انسانی جان کا ضیاع ہو تو ذمہ داری کا تعین اور قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اگر کسی ادارے یا فرد کی کوتاہی ثابت ہو تو اسے محض رسمی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ حادثے کے بعد افسوس کرنے کے بجائے حادثے سے پہلے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ننھی جان کا چراغ بجھنے سے صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوتی ایک پورا خاندان عمر بھر کے دکھ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے آج ہی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے والدین اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں یہ توفیق دے کہ آئندہ کسی ماں باپ کی خوشی حفاظتی غفلت کی نذر نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں