کراچی (رپورٹر)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے ’’وس دھاری سندھی تھیٹر فیسٹیول 2026‘‘ کے آخری روز دو سندھی تھیٹرز “Wann Wajae Chhadyae” اور ’’Tirkini Daakan‘‘ پیش کیے گئے، *تھیٹر”Wann Wajae Chhadyae” کے رائٹر مصنف قادر خان جبکہ ڈائریکٹر عمیر بھٹوتھے، تھیٹر کے ذریعے قادر خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔تھیٹر میں ارشد شیخ، نادر حسین، عمیر بھٹو، علی بخش، عبدالفتاح، تیمور خان اور جبار حسین نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔تھیٹر کی کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو پیڑوں کے درمیان جا گرتا ہے اور اسے وہاں سے نکالنے کے لیے مختلف محکموں کے اہلکاروں کو بلایا جاتا ہے۔ اس شخص کو نکالنے کے لیے ہونے والی کارروائی میں وقت لگ جاتا ہے، جس کے باعث اسے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب تھیٹر ’’Tirkini Daakan‘‘ کے رائٹر ایوب گاد جبکہ ڈائریکٹر واحد رضا تھے ، تھیٹر میں حیدر قادری، واحد رضا، اعجاز چانڈیو اور لائبہ بلوچ نے شاندار پرفارمنس پیش کی۔ ’’Tirkini Daakan‘‘ کی پیشکش کے دوران ہال شائقین سے کھچا کھچ بھرا رہا۔ ڈرامہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے ایک اصول پسند پیروکار ادیب کی کہانی ہے، جو اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزارتا ہے۔ مرکزی کردار شکوہ کرتا ہے کہ لوگ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کو صرف باتوں اور اشعار کی حد تک پسند کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ان کی تعلیمات اور افکار پر عمل نہیں کرتے۔ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ ہر شخص اپنی سوچ اور مفاد کے مطابق شاہ لطیفؒ کو پیش کرتا ہے، مگر ان کے کردار اور پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بناتا۔ ڈرامے میں ایک ایم فل کی طالبہ تحقیق کے سلسلے میں اس اصول پسند ادیب سے مدد طلب کرتی ہے اور اپنے حسن و شخصیت کے ذریعے اسے متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ طالبہ مختلف کرداروں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے، جن میں ایک عاشق اور ایک شوہر بھی شامل ہیں۔ طالبہ اصول پسند ادیب کو بھی اپنے حسن کے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا پیروکار ہونے کے باعث وہ اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ ڈرامے میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے افکار، اصول پسندی، کردار اور ان کی تعلیمات پر عملی زندگی میں عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ واضح رہے کہ ’’وس دھاری سندھی تھیٹر فیسٹیول 2026‘‘ میں 8 سندھی تھیٹر ز پیش کیے گئے جس میں عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

