انجنیئر حمید بلوچ
تربت: انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دیرینہ مسئلے کو طاقت، گرفتاریوں، دباؤ اور محض سیکیورٹی پالیسی کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اگر ریاست واقعی بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام چاہتی ہے تو اسے طاقت کے بجائے سیاسی بصیرت، مکالمے اور ایک واضح سیاسی آپشن کو ترجیح دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کو صرف امن و امان کا مسئلہ قرار دینا بنیادی حقیقتوں سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ جب ایک صوبے کے عوام سیاسی نمائندگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور اپنے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں تو ان سوالات کا جواب طاقت نہیں بلکہ سیاسی عمل اور جمہوری اداروں کے ذریعے دیا جاتا ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کسی طاقت یا خوف سے قائم نہیں ہوتا۔ اعتماد انصاف، مساوات، شفافیت، آئینی حقوق کے احترام اور کیے گئے وعدوں کی تکمیل سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر عوام کی آواز کو مسلسل نظرانداز کیا جائے اور اختلافِ رائے کو محض سیکیورٹی کے چشمے سے دیکھا جائے تو فاصلے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، معدنیات اور دیگر معاشی امکانات صوبے اور اس کے عوام کی ترقی کا ذریعہ بننے چاہئیں۔ وسائل کے استعمال، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی پالیسیوں میں مقامی آبادی کی مؤثر شمولیت اور انہیں ترقی کے ثمرات میں جائز حصہ دینا ضروری ہے۔ ایسی ترقی جو مقامی لوگوں کو فیصلہ سازی سے باہر رکھے، پائیدار ترقی نہیں کہلا سکتی۔
انجنیئر حمید بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ حل کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ انہیں تعلیم، روزگار، سیاسی شرکت اور باعزت مستقبل کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سیاسی نظام میں جگہ دینا ہی دیرپا استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے تمام متعلقہ سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کے ساتھ غیر مشروط اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ مذاکرات محض وقت گزارنے یا رسمی ملاقاتوں تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کے نتیجے میں واضح فیصلے، قابلِ عمل اقدامات اور قابلِ اعتماد سیاسی ضمانتیں سامنے آنی چاہئیں۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں امن صرف بندوق کی خاموشی کا نام نہیں؛ امن اس وقت قائم ہوگا جب عوام کو انصاف، عزت، سیاسی اختیار اور اپنے مستقبل پر اعتماد حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا:
“بلوچستان کو طاقت کے مزید تجربات نہیں، ایک سنجیدہ سیاسی راستے کی ضرورت ہے۔ ریاست جتنی جلدی طاقت کے بجائے سیاست کو موقع دے گی، اتنی ہی جلدی اعتماد کی بحالی اور پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔”
انجنیئر حمید بلوچ نے واضح کیا کہ بلوچستان کا حل کسی ایک فریق کی شکست یا فتح میں نہیں بلکہ ایسے سیاسی سمجھوتے میں ہے جس میں عوام کے جائز حقوق، آئینی اصول، صوبائی خودمختاری، معاشی انصاف اور سیاسی شمولیت کو حقیقی معنوں میں یقینی بنایا جائے۔
طاقت مسئلے کو دبا سکتی ہے، ختم نہیں کر سکتی؛
سیاسی مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کر سکتا ہے۔

