کراچی(این این آئی)ملی یکجہتی کونسل سندھ کے ایک وفد نے عالمی حالات کے تناظر میں ایرانی قونصلیٹ کراچی میں تعینات ایرانی ناظم الامور ڈاکٹر واحدعسکری سے ملاقات کی اور اسرائیلی جارحیت کا مردانہ وار مقابلہ کرنے پر اسلامی جمہوری ایران کی قیادت اور قوم کو مبارکباد پیش کی۔صوبائی صدر وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو وفدکی قیادت جبکہ علامہ سید اسداقبال زیدی،علامہ قاضی احمد نورانی، محمد حسین محنتی، علامہ عقیل انجم قادری، علامہ غلام مرتضیٰ رحمانی،ڈاکٹر صابر ابو مریم اور مجاہد چنا شامل تھے۔شرکاء وفد نے کہاکہ غزہ کے مظلومین کو بدمست ہاتھی کی طرح روندنے والے اور تمام عالمی قوانین کی امریکی حمایت پر دھجیاں بکھیرنے والے اسرائیل کے خلاف ایرانی حملوں نے دنیا بھر کے مظلومین کے نہ صرف حوصلے بلند کئے بلکہ اسرائیلی فوجی تنصیبات،عسکری اثاثوں اور اہم اداروں پر کامیاب حملوں نے یہ ثابت کر دیا کہ آئرن ڈوم فقط ایک خیالی تصور تھااور اسرائیل کسی بھی حیثیت میں ناقابل تسخیر نہیں ہے۔وفد نے پاکستانی قوم اور ملی یکجہتی کونسل میں شامل تمام دینی جماعتوں کی طرف سے ایرانی قیادت کی استقامت اور معاملہ فہمی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار رکاوٹوں امریکہ آور اس کے حواریوں کی ہرزہ سرائی اور 2000کلومیٹر کے فاصلے کے باوجود ایران نے اسرائیل کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران مسلم دنیا کی ایک اہم طاقت ہے۔ وفد نے ایران کو اس آزمائش کے موقع پر اپنے اخلاقی تعاون کا مکمل یقین دلاتے ہوئے کہاکہ ایران اور پاکستان کے عوام کبھی بھی اپنے اطراف میں کسی امریکی کالونی کو پنپنے کا موقع نہیں دیں گے اور من حیث القوم اپنے فیصلوں کے ذریعے حمیت و غیرت کا اظہار کرتے رہیں گے۔ اسداللہ بھٹو نے کہاکہ ایران پراسرائیلی وامریکی حملوں کے خلاف پاکستان کے ایوان بالا سینٹ وقومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد اوریکجہتی کا اظہار کیا گیا۔پاکستانی قوم کے دل ایرانی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں،اسلامی جمہوری ایران کی امریکہ و اسرائیل کے خلاف بھرپور کارروائی پر پوری امت کو حوصلہ ملا ہے۔ ایرانی عوام اورقیات کی جرات ہمت کے لیے استقامت کی دعا کرتے ہیں۔اس حوالے سے رہبر معظم ایران کے سپریم لیڈرآیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے مدبرانہ کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ایران کے ناظم الامور ڈاکٹر واحدعسکری نے ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی حکومت کے واضح موقف اور شانہ بشانہ ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کے بیانیہ نے ایرانی قوم کو ایک نیا حوصلہ دیا ہے اور پاکستان کی دینی جماعتوں کی مشترکہ آواز نے جس طرح ایران کے موقف کی تائید کی اسے غزہ کی جنگ کا تسلسل قراردیا اس سے نہ صرف ایران کا حوصلہ بڑھا بلکہ پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی طرح ہر آزمائش کی گھڑی میں پاکستان وایران ایک ساتھ کھڑے ہوں گے باالخصوص قبلہ اول کی آزاد کے لیے مشترکہ جدوجہد کرتے رہیں گے۔امت مسلمہ کاآپس میں نااتفاقی کی وجہ سے جابر قوتیں مسلمان ممالک کے قدرتی وسائل پر قابض ہیں اگر اتحاد امت ہوتا تو بناوٹی ریاست اسرائیل کو 50 ہزار لوگوں کو شہید کرنے کی کبھی جرات نہ ہوتی۔ اسرائیل کا یہ کسی مسلمان ملک پرپہلا حملہ نہیں دراصل کچھ طاقتوں نے اسرائیل کو ایک من گھڑت ریاست بنایا وہ مختلف ممالک پر حملے اور خانہ جنگی کرکے اپنے وجود کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ ان کی اصل حیثیت کچھ نہیں ہے۔ایک منصوبہ بندی کے تحت ان کو عالم اسلام کے قلب میں بسایا گیا ہے۔ یہ جنگ دراصل غزہ میں ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے ایرانی قوم پہلے کی طرح اپنے موقف کے ساتھ کھڑی ہے ہم امن پرست قوم ہیں اور امن پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے حقوقِ کے لیے آخر تک کھڑے رہیں گے۔

