امریکا: پولیو جیسی بیماری کا سبب بننے والا وائرس بچوں میں پھیلنے لگا

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ایسا سانس کا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جو نایاب صورتوں میں بچوں میں پولیو جیسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق انٹرو وائرس ڈی68 (EV-D68) کی مقدار بے ایریا کے مختلف علاقوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے، جن میں پالو آلٹو، ناپا، جنوب مشرقی سان فرانسسکو اور سان رافیل شامل ہیں۔ اس حوالے سے اعداد و شمار شہری گندے پانی میں مختلف وائرسز کے آثار کی نگرانی کرنے والے ادارے وایسٹ واٹر اسکین کے ہیں۔

ای وی-ڈی68، 100 سے زائد نانأپولیو انٹرو وائرسز میں سے ایک ہے۔ یہ وائرس عام طور پر موسمِ گرما کے اختتام اور خزاں کے آغاز میں زیادہ پھیلتا ہے۔ اس کی عام علامات نزلہ زکام جیسی ہوتی ہیں، جن میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور سانس کے دوران سیٹی جیسی آواز شامل ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق وائرس سے متاثرہ بچوں کو بخار بھی ہو سکتا ہے جبکہ بعض کیسز میں سانس لینے میں شدید دشواری یا نمونیا جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

شیر خوار بچوں، کم عمر بچوں اور نوعمروں میں بیماری کی شدت زیادہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ انہیں اس وائرس سے پہلے واسطہ نہ پڑنے کی وجہ سے قدرتی مدافعت حاصل نہیں ہوتی۔

ماہرین کے مطابق انتہائی نایاب صورتوں میں ای وی-ڈی68 ایکیوٹ فلیکسڈ مائیلائٹس (اے ایف ایم) کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی لیکن خطرناک اعصابی بیماری ہے جو زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

اے ایف ایم کی علامات عام طور پر ای وی-ڈی68 کے انفیکشن کے کئی ہفتوں بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں میں سانس کی شدید دشواری یا غیر معمولی اعصابی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کریں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں