کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور شہریوں کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی دوریوں اور بے چینی کا بنیادی حل عوام سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد اور ان کے مسائل کا فوری حل ہے۔ جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر ریاست میں ’’خدا کی زمین پر خدا کے نظام‘‘ کے لیے اپنی بساط کے مطابق ہر شعبے میں کام کر رہی ہے۔ جے یو آئی جموں و کشمیر کے امیر اور قائدِ کشمیر مولانا سعید یوسف خان نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ قابلِ قدر اور ناقابلِ فراموش ہے، جبکہ قائد ملتِ اسلامیہ مولانا فضل الرحمان پاکستان اور کشمیر میں امن و سلامتی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر ضلع ملیر کے زیر اہتمام جامع مسجد و مدرسہ ابراہیم اسلامیہ، سندھی پاڑہ سموں گوٹھ ملیر کراچی میں منعقدہ مشاورتی و تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی قائدین مولانا رفیق میر اور دیگر مقررین نے کیا۔ نشست کا آغاز قاری راجہ محمد عرفان کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔
مولانا رفیق میر نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، امن و استحکام اور ریاستی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ عوام سے رابطہ مضبوط کریں اور جماعتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھائیں۔
جے یو آئی جموں و کشمیر سندھ و بلوچستان زون کراچی کے سینئر نائب امیر مولانا مفتی عزیز الرحمن دانش نے کہا کہ ہمیں مخلوقِ خدا کے تعلق کو غیروں سے توڑ کر اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرنے کے لیے عملی میدان میں اترنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اور خوشی و غمی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
مولانا قاضی منیب الرحمن نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعتی نظم کو مضبوط بنانے کے لیے ہر پندرہ روز یا ماہانہ بنیادوں پر باقاعدگی سے نشستیں منعقد کی جائیں، جن میں طے شدہ موضوعات پر گفتگو کے ساتھ جمعیت کے مشن، خدمات، اہداف اور دستور سے کارکنان کو آگاہ کیا جائے۔
مولانا عبدالحفیظ شاہ نے دستور کے مطابق عہدیداران کی ذمہ داریوں اور فرائض پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ضلع ملیر سمیت دیگر اضلاع اور ٹاؤنز میں جماعتی تنظیم کو فعال بنانے کے لیے متعلقہ ذمہ داران کو اختیارات تفویض کیے اور اعلان کیا کہ ماہ اکتوبر کے دوران تمام غیر فعال باڈیوں کو فعال بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام جموں و کشمیر سندھ و بلوچستان زون کراچی کے ترجمان مولانا منظور فقیری نے سوشل میڈیا کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں جماعت کے نظریے اور مثبت پیغام کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا منظم استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیرِ محترم اور مجلسِ عاملہ کی ہدایات کے مطابق تمام ذمہ داران اور کارکنان کراچی سے کشمیر تک جماعتی ہدایات اور مثبت پیغامات کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر باقاعدگی سے شیئر کریں، امیر کی اطاعت اور جماعت کے دستور کی پابندی کو یقینی بنائیں۔
مولانا محمد صدیق، جنرل سیکریٹری، نے تجاویز پیش کرنے کے علاوہ ضلع کورنگی کی جماعتی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی، جبکہ مولانا بشارت محمود کشمیری نے ضلع ملیر، مولانا جاوید میر نے شاہ فیصل ٹاؤن اور شیریار بھائی نے گڈاپ ٹاؤن کی تنظیمی رپورٹس پیش کیں۔
اس موقع پر جامع مسجد و مدرسہ ابراہیم اسلامیہ کے شعبۂ بنات کی کلاس کا افتتاح بھی کیا گیا۔ مقررین نے مولانا منظور فقیری کی جماعتی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر مولانا پیر عبدالماجد نقشبندی اور مولانا عبدالاحد کی والدہ مرحومہ، زلزلے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت کی گئی، جبکہ آزاد کشمیر میں امن و امان، استحکام اور عوام کی سلامتی کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔

