عالمِ ارواح میں لالا حکیم لہڑی کی آمد، ایک تخیلاتی مکالمہ — وشاتک، حال احوال* *،وطن کی یاد اور یاسمیں و اِزگل کا روحانی گلدستہ

بلوچ صدیق آزاد
(یہ تحریر ایک ادبی تخیل ہے۔ اس میں مرحوم بلوچ رہنماؤں، دانش وروں اور شاعر کی روحوں کو ایک تصوراتی محفل میں جمع کیا گیا ہے۔ ان سے منسوب مکالمے تاریخی اقوال نہیں، بلکہ ان کی زندگی، فکری روایت اور بلوچ قومی حافظے سے متاثر تخلیقی اظہار ہیں۔)
بعض انسان دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی رخصتی کے ساتھ ان کی کہانی ختم نہیں ہوتی۔ ان کے قدموں کی آہٹ دیر تک ان راستوں پر سنائی دیتی رہتی ہے جن پر وہ چلتے رہے؛ ان کی آواز ان محفلوں میں گونجتی رہتی ہے جہاں کبھی ان کے قہقہے بلند ہوا کرتے تھے؛ اور ان کی یاد ان دلوں میں چراغ کی طرح روشن رہتی ہے جنہوں نے ان کے ساتھ زندگی کے خوش گوار لمحے بھی گزارے اور تاریخ کے تلخ موسم بھی دیکھے۔
لالا حکیم لہڑی کی وفات بھی ایسی ہی ایک جدائی ہے۔ ان کی زندگی محض ایک فرد کی زندگی نہیں تھی، بلکہ بلوچ سیاسی جدوجہد، رفاقت، وفاداری، جلاوطنی، قربانی اور امیدوں سے بندھی ہوئی ایک طویل داستان تھی۔ ان کی یاد میں جب دل ماضی کی طرف لوٹتا ہے تو کوئٹہ کی پرانی گلیاں، سیاسی محفلیں، دوستوں کی نشستیں، کابل کی جلاوطنی اور دبئی میں ہونے والی ملاقاتیں ایک ایک کرکے نگاہوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اپنی کتاب کے کچھ اوراق بند کر دیے ہوں، مگر ان پر لکھی تحریر ابھی تک مٹنے سے انکار کر رہی ہو۔
آئیے، حقیقت اور خیال کے درمیان ایک ادبی دروازہ کھولیں۔ تصور کریں کہ زمین کی تھکن، بیماری، جدائی اور موت سے ماورا ایک ایسی دنیا ہے جہاں پرانے دوست پھر مل سکتے ہیں؛ جہاں سیاست کی تلخیوں کے بعد گفتگو کے لیے سکون میسر ہے؛ جہاں انسان اپنی زندگی کے زخموں کو یاد تو کرتا ہے، مگر ان زخموں کی تازہ اذیت سے آزاد ہے؛ اور جہاں بلوچ روایت کا قدیم سلیقہ، وشاتک اور حال احوال، ایک بار پھر زندہ ہو اٹھتا ہے۔
یہ ایک تخیلاتی منظر ہے، مگر اس کے احساسات ان رشتوں سے جنم لیتے ہیں جو زندگی میں حقیقی تھے۔
نور کے دروازے پر:
ایک خاموش وادی تھی۔ نہ وہاں وقت کی تیزی تھی، نہ دنیا کی سیاست کا شور، نہ اقتدار کے ایوانوں کی کشمکش اور نہ جلاوطنی کی بے وطنی۔ فضا میں ایک عجیب سی نرمی تھی۔ دور تک پھیلے ہوئے نور میں ایسے سکون کا احساس تھا جیسے کسی طویل سفر کے بعد مسافر کو آخرکار اپنے لوگوں کی محفل مل گئی ہو۔
اسی وادی میں ایک دروازہ روشن ہوا۔
لالا حکیم لہڑی کی روح آہستہ آہستہ اس دروازے سے گزرے۔ ان کے چہرے پر سفر کی تھکن کا کوئی نشان نہ تھا، مگر آنکھوں میں ایک مانوس سی سنجیدگی تھی۔ وہ چند قدم آگے بڑھے تو سامنے کچھ شناسا چہرے دکھائی دیے۔
سب سے پہلے میر غوث بخش بزنجو آگے بڑھے۔ ان کے چہرے پر وہی شفیق مسکراہٹ تھی جو پرانے دوستوں کی ملاقات میں برسوں کی دوری کو ایک لمحے میں سمیٹ لیتی ہے۔
انہوں نے محبت سے کہا:
’’لالا حکیم، وش آتکئے! بیا بخیر! خوش آمدید، میرے دوست!‘‘
لالا حکیم کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’میر صاحب! آپ کی یہ آواز سن کر یوں لگتا ہے جیسے کوئٹہ کی کسی پرانی محفل میں واپس آگیا ہوں۔ کتنے زمانے گزر گئے، کتنے لوگ بچھڑ گئے، کتنے خواب ادھورے رہ گئے! مگر آپ کی آواز میں آج بھی وہی اپنائیت ہے۔‘‘
میر غوث بخش بزنجو نے انہیں گلے لگا لیا۔
’’لالا، زمانے بدلتے ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی نقشے بدل جاتے ہیں، لیکن پرانی رفاقتوں کی حرارت آسانی سے نہیں بدلتی۔ آؤ، تمہارے دوست تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
قریب ہی سردار عطااللہ مینگل کھڑے تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر لالا حکیم کا ہاتھ تھاما اور دیر تک انہیں دیکھتے رہے۔
’’لالا! آخر تم بھی آگئے۔ تمہیں دیکھ کر پرانی محفلیں یاد آگئیں۔ وہ دن، جب ہم سمجھتے تھے کہ سیاسی جدوجہد کی ہر قربانی کے بعد ایک نیا راستہ کھلے گا۔ ہم نے کتنے خواب دیکھے تھے!‘‘
لالا حکیم نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
’’سردار صاحب، خواب دیکھنا شاید ہماری سب سے بڑی کمزوری بھی تھی اور سب سے بڑی طاقت بھی۔ ہم جانتے تھے کہ راستہ آسان نہیں، مگر ہمیں یہ بھی یقین تھا کہ اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے لیے جدوجہد کیے بغیر زندگی کا کوئی مفہوم نہیں۔‘‘
اسی حلقے میں بابا مری موجود تھے۔ ان کی شخصیت میں ہمیشہ کی طرح ایک خاموش وقار اور مزاحمت کی سخت چمک تھی۔ انہوں نے لالا حکیم کو اپنے مخصوص انداز میں خوش آمدید کہا۔
’’لالا، تم نے بھی بہت لمبا سفر کیا۔ مگر بتاؤ، دنیا نے تمہیں زیادہ تھکایا یا تمہارے اپنے لوگوں کی امیدوں نے؟‘‘
لالا حکیم ہنس دیے۔
’’بابا، اگر لوگوں کی امیدیں نہ ہوتیں تو شاید ہم اتنی دور تک سفر بھی نہ کر پاتے۔ انسان تھک جاتا ہے، مگر دوسروں کی امیدیں اسے پھر اٹھا دیتی ہیں۔‘‘
میر گل خان نصیر بھی قریب آ گئے۔ ان کے چہرے پر شاعر کی حساسیت اور تاریخ دان کی گہری نظر یکجا تھیں۔
’’لالا، تمہارے آنے سے محفل مکمل ہوئی۔ اب بیٹھو، حال احوال کرتے ہیں۔ دنیا میں تو ہر ملاقات کے ساتھ کوئی نہ کوئی سیاسی خبر، کوئی گرفتاری، کوئی نیا بحران یا کسی دوست کی جدائی آ جاتی تھی۔ دیکھیں، یہاں گفتگو کہاں سے شروع ہوتی ہے!‘‘
اس جملے پر سب مسکرا دیے۔
یہ بلوچ روایت کا وہی پرانا انداز تھا: پہلے وشاتک، یعنی محبت اور احترام کے ساتھ خوش آمدید؛ پھر حال احوال، جس میں محض رسمی سوال جواب نہیں بلکہ ایک دوسرے کی زندگی، دکھ، خوشی، صحت، خاندان، دوستوں اور زمانے کے حالات کی خبر لی جاتی ہے۔ یہ ملاقات صرف دو افراد کے درمیان نہیں ہوتی؛ اس میں ایک پورا معاشرہ، اس کی یادیں اور اس کی تہذیب شریک ہوتی ہے۔
یاسمیں اور اِزگل کا روحانی گلدستہ:
ابھی یہ محفل اپنی پرانی گرم جوشی میں پوری طرح ڈوبی بھی نہ تھی کہ دور سے دو ننھی بچیاں آتی دکھائی دیں۔
ان کے قدم ہلکے تھے۔ ان کے چہروں پر ایک معصوم سی روشنی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کے پھولوں کا ایک گلدستہ تھا۔ وہ بڑی شخصیات کے اس حلقے کی طرف بڑھ رہی تھیں، مگر ان کے انداز میں نہ کوئی خوف تھا، نہ جھجک۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی بہت اپنے عزیز کے استقبال کے لیے آئی ہوں۔
میر گل خان نصیر نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں نرمی اتر آئی۔
’’لالا، تمہارے استقبال کے لیے کچھ اور مہمان بھی آئے ہیں۔ ان کی آمد اس محفل کو ایک ایسا رنگ دے گی جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔‘‘
دونوں بچیاں قریب پہنچیں۔ ایک نے گلدستہ اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا اور دوسری اس کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔
پہلی بچی نے آہستہ سے کہا:
’’لالا، وش آتکئے! خوش آمدید! ہم جیونی سے آپ کے استقبال کے لیے آئی ہیں۔ یہ پھول ہماری طرف سے قبول کیجیے۔‘‘
لالا حکیم ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ انہوں نے بچیوں کے چہروں کو غور سے دیکھا۔ پھر محبت سے جھک کر پوچھا:
’’میری بچیو، تمہارے ننھے ہاتھوں میں یہ اتنے سارے پھول کہاں سے آئے؟‘‘
دوسری بچی نے گلدستہ ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
’’لالا، پھول تو بہت چھوٹے ہیں، مگر ہم انہیں بہت محبت سے لائی ہیں۔ ہم چاہتی تھیں کہ آپ کو بھی معلوم ہو کہ اس محفل میں آپ کا انتظار کرنے والے صرف بڑے لوگ نہیں ہیں۔‘‘
لالا حکیم نے دونوں بچیوں کے ہاتھ تھام لیے۔ ان کی آنکھوں میں ایک ایسی نمی اتر آئی جسے چھپانے کی ضرورت نہ تھی۔
’’تم دونوں کون ہو، میری بچیو؟ تمہاری آنکھوں میں مجھے اپنے وطن کے ساحلوں کی روشنی کیوں دکھائی دے رہی ہے؟‘‘
پہلی بچی نے کہا:
’’میرا نام یاسمیں ہے۔‘‘
دوسری نے مسکرا کر جواب دیا:
’’اور میں اِزگل ہوں۔ ہم آپ کے لیے محبت کا یہ چھوٹا سا گلدستہ لائی ہیں۔‘‘
لالا حکیم نے دونوں کو اپنے قریب بٹھا لیا۔
’’یاسمیں، اِزگل! تمہارا یہ گلدستہ میرے لیے اس پوری محفل کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ بڑے لوگ تاریخ کی کتابوں میں لکھے جاتے ہیں، ان کے نام تقریروں میں لیے جاتے ہیں، ان کی جدوجہد پر بحث ہوتی ہے۔ مگر معصوم بچوں کے دکھ کبھی کبھی تاریخ کے حاشیوں میں بھی جگہ نہیں پاتے۔ تم دونوں کی یہ محبت میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔‘‘
دونوں بچیاں خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گئیں۔
اس لمحے محفل میں موجود بزرگوں کے چہروں پر بھی گہری سنجیدگی چھا گئی۔ یہ گلدستہ صرف چند پھولوں کا مجموعہ نہ تھا۔ یہ ایک ایسی سرزمین کے معصوم بچوں کی علامت تھا جہاں زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی کبھی احتجاج کا سبب بن جاتی ہیں، جہاں پانی کی طلب انسان کو سڑکوں تک لے آتی ہے، اور جہاں عام لوگوں کا دکھ اکثر بڑے سیاسی نعروں کے نیچے دب جاتا ہے۔
یاسمیں اور اِزگل کی اس تخیلاتی آمد کے پس منظر میں جیونی کے ان واقعات کی یاد تھی جنہیں راوی نے برسوں پہلے سنا اور محسوس کیا تھا۔ یہ منظر کسی تاریخی رپورٹ کا متبادل نہیں، بلکہ ان معصوم جانوں کے لیے ایک ادبی خراج ہے جن کی کہانیوں کو دنیا نے شاید پوری طرح سنا ہی نہیں۔
لالا حکیم نے گلدستہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور دیر تک اسے دیکھتے رہے۔
’’میر صاحب، سردار صاحب، بابا!‘‘ انہوں نے آہستہ سے کہا، ’’ہماری سیاست کا اصل مقصد آخر کیا تھا؟ کیا صرف اقتدار، عہدے اور سیاسی کامیابیاں؟ یا اس سے کہیں بڑھ کر یہ کہ ہماری سرزمین پر کوئی بچہ پانی مانگتے ہوئے خوف زدہ نہ ہو، کسی ماں کو اپنے بچے کے مستقبل کے لیے بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور کسی انسان کی زندگی اس کی زبان، شناخت یا حقِ زندگی کے باعث کمتر نہ سمجھی جائے؟‘‘
کسی نے فوراً جواب نہ دیا۔
کبھی کبھی ایک بچے کا خاموش چہرہ وہ سوال اٹھا دیتا ہے جس کا جواب پوری پوری سیاسی تقریریں نہیں دے پاتیں۔
حال احوال: یادوں کے دریچے
کچھ دیر بعد محفل پھر گفتگو کی طرف لوٹی۔ پرانے دوستوں کے درمیان وہی بے تکلفی پیدا ہو گئی جو برسوں کی رفاقت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
عطااللہ مینگل نے پوچھا:
’’لالا، تمہیں کوئٹہ کے وہ دن یاد ہیں جب ہم رات گئے تک بیٹھے رہتے تھے؟ کبھی کسی سیاسی فیصلے پر بحث، کبھی کسی دوست کی گرفتاری کی خبر، کبھی کسی نئی تحریک کی امید، اور کبھی آنے والے کل کے بارے میں بے شمار سوالات۔‘‘
لالا حکیم نے سر ہلایا۔
’’کیسے بھول سکتا ہوں؟ کوئٹہ صرف ایک شہر نہیں تھا؛ وہ ہماری سیاسی زندگی کی ایک بڑی درس گاہ بھی تھا۔ وہاں ہم نے اختلاف کرنا سیکھا، ایک دوسرے سے سوال کرنا سیکھا، اور یہ بھی سیکھا کہ سیاسی رفاقت کا مطلب ہر بات پر اتفاق نہیں ہوتا۔ کبھی نظریاتی اختلاف کے باوجود دوستیاں قائم رہتی تھیں، کبھی سخت بحث کے بعد بھی ایک دوسرے کے لیے احترام باقی رہتا تھا۔‘‘
میر غوث بخش بزنجو نے کہا:
’’سیاسی زندگی میں اختلاف ناگزیر ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی بنا دینا کسی تحریک کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تاریخ صرف ان کے دشمنوں سے نہیں بنتی؛ ان کی اپنی داخلی کمزوریاں بھی ان کی تقدیر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔‘‘
بابا مری نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا:
’’اور کبھی کبھی اصولوں کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ہر شخص وہ قیمت ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن جو لوگ اصولوں کو اپنے مفاد کے تابع کر لیتے ہیں، وہ وقتی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں؛ تاریخ میں ان کی جگہ کا فیصلہ پھر بھی ان کے کردار سے ہوتا ہے۔‘‘
لالا حکیم نے جواب دیا:
’’بابا، ہماری نسل نے بہت کچھ دیکھا۔ امید بھی، مایوسی بھی؛ رفاقت بھی، تنہائی بھی؛ وطن کے لیے جدوجہد کا عزم بھی، اور اپنے لوگوں کے بکھرنے کا دکھ بھی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ اس نے کتنی مشکلات دیکھیں، بلکہ یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران اس نے اپنے اصولوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔‘‘
میر گل خان نصیر نے مسکرا کر کہا:
’’لالا، تم پھر ہمیں سیاست کے امتحان میں ڈال رہے ہو۔ یہاں بھی ہمیں اپنے پرانے سوالوں سے نجات نہیں ملے گی!‘‘
سب ہنس پڑے۔ یاسمیں اور اِزگل بھی مسکرائیں، جیسے انہیں بڑوں کی اس بے تکلفی میں کوئی پرانا گھریلو سکون محسوس ہو رہا ہو۔
جلاوطنی، دوستیاں اور وطن کی کشش
گفتگو کا رخ جلاوطنی کی طرف مڑ گیا۔
کابل کی یادیں، دور دراز شہروں میں گزرے دن، اجنبی زمینوں پر بننے والی عارضی پناہ گاہیں اور وطن سے دور رہنے کی وہ کیفیت جسے صرف جلاوطن ہی پوری طرح سمجھ سکتا ہے، سب ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے۔
لالا حکیم نے کہا:
’’جلاوطنی میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے لوگوں کی آواز ہے، اپنی زبان کی مانوسیت ہے، اپنے شہر کی دھول ہے، دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ ہے، اور وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے انسان کو اپنے قدموں کی پہچان محسوس ہوتی ہے۔ اجنبی ملک میں آپ کو رہائش مل سکتی ہے، دوست مل سکتے ہیں، روزگار یا سہولتیں بھی مل سکتی ہیں، مگر اپنے وطن کی کمی کسی اور چیز سے پوری نہیں ہوتی۔‘‘
عطااللہ مینگل نے کہا:
’’جلاوطنی انسان کو دو طرح سے بدلتی ہے۔ کچھ لوگ ماضی کی طرف لوٹتے رہتے ہیں، کچھ اپنے مستقبل کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن دونوں کے دل میں ایک سوال زندہ رہتا ہے: ہم کب واپس جائیں گے؟‘‘
لالا حکیم نے گہری سانس لی۔
’’اور بعض اوقات واپسی صرف جسمانی واپسی نہیں ہوتی۔ انسان اپنے وطن واپس آ بھی جائے تو اسے وہ دنیا نہیں ملتی جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ دوست بدل چکے ہوتے ہیں، گھرانے بکھر چکے ہوتے ہیں، بعض چہرے تاریخ بن چکے ہوتے ہیں۔ تب انسان سمجھتا ہے کہ واپسی کا ایک راستہ یادوں سے بھی گزرتا ہے۔‘‘
میر غوث بخش بزنجو نے یاسمیں اور اِزگل کی طرف دیکھا۔
’’شاید اسی لیے یہ بچیاں ہمارے درمیان بیٹھی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن کا مستقبل صرف سیاسی قیادتوں اور تاریخی فیصلوں کا نام نہیں۔ وطن وہ بچے بھی ہیں جن کے لیے ہم ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ اگر ان کی زندگی محفوظ نہیں، اگر ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں، تو ہماری سیاسی کامیابیوں کے دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔‘‘
اِزگل نے گلدستے کے ایک پھول کو چھوا۔ اس کے ہاتھ کی حرکت بہت معمولی تھی، مگر اس خاموشی میں ایک ایسا سوال تھا جو محفل کے ہر فرد تک پہنچ گیا: کیا بڑے لوگوں کی تمام جدوجہد کا آخری مقصد یہی نہیں ہونا چاہیے کہ بچوں کی دنیا بڑوں کی غلطیوں کا بوجھ نہ اٹھائے؟
وطن، ساحل اور عام انسان کا دکھ
باتوں باتوں میں جیونی اور مکران کے ساحلوں کا ذکر آ گیا۔
سمندر کا تصور ابھرا؛ وہ سمندر جس نے صدیوں سے ماہی گیروں کو رزق دیا، مسافروں کو راستے دکھائے، ساحلی آبادیوں کو دنیا کے دوسرے کناروں سے جوڑا اور بلوچ تہذیب کو وسیع افق عطا کیے۔ مگر سمندر کے کنارے رہنے والے انسانوں کی زندگی ہمیشہ آسان نہیں رہی۔ کہیں روزگار کی غیر یقینی، کہیں پانی کی قلت، کہیں محرومی، کہیں خوف اور کہیں اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کی دشواری۔
لالا حکیم نے کہا:
’’ہم اکثر بڑے سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ جغرافیہ، وسائل، ساحل، تجارت، اختیار اور مستقبل۔ یہ سب اہم ہیں۔ لیکن ان تمام موضوعات کے درمیان عام انسان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ساحل کی اہمیت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے کنارے رہنے والے انسان کی زندگی بھی اہم سمجھی جائے۔ زمین کے وسائل پر بحث اس وقت بامعنی بنتی ہے جب وہاں رہنے والے لوگوں کے حقِ زندگی، عزت اور معاش کا احترام کیا جائے۔‘‘
بابا مری نے کہا:
’’قومی سوال کی جڑیں بھی عام انسان کی زندگی میں ہوتی ہیں۔ جب لوگ اپنی شناخت، اپنی زبان، اپنے وسائل یا اپنے مستقبل کے بارے میں بے اختیار محسوس کرتے ہیں تو ان کے دل میں محرومی جمع ہوتی جاتی ہے۔ اسے محض انتظامی مسئلہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
میر گل خان نصیر نے اضافہ کیا:
’’اور اس محرومی کی داستان کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاریخ صرف حکمرانوں کے فیصلوں کا ریکارڈ نہیں ہوتی۔ وہ ان لوگوں کی یاد بھی ہوتی ہے جن کے نام سرکاری دستاویزات میں کم ملتے ہیں، مگر جن کے دکھ معاشرے کی اجتماعی یادداشت میں زندہ رہتے ہیں۔‘‘
یاسمیں اور اِزگل خاموشی سے سنتی رہیں۔ ان کی خاموش موجودگی نے گفتگو کو ایک انسانی معنی دے دیا تھا۔ وہ کسی سیاسی نظریے کی ترجمان نہیں تھیں، نہ ان سے کسی طویل تقریر کی توقع تھی۔ ان کا گلدستہ ہی کافی تھا؛ چند پھول جو یاد دلاتے تھے کہ سیاست، تاریخ اور نظریے کے ہر سوال کے پیچھے انسانی زندگی موجود ہوتی ہے۔
لالا حکیم نے گلدستے کو دیکھا۔
’’یہ پھول مجھے یاد دلاتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین سے محبت کا دعویٰ اس وقت تک مکمل نہیں کر سکتے جب تک ہم اس سرزمین کے کمزور ترین انسان کے دکھ کو بھی اپنا دکھ نہ سمجھیں۔ وطن سے محبت صرف بلند نعروں میں نہیں، بلکہ اس بات میں بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں، اپنے بزرگوں، اپنے ماہی گیروں، اپنے کسانوں اور اپنے بے آواز لوگوں کے لیے کس قدر فکر مند ہیں۔‘‘
زبان، شاعری اور تاریخ کی امانت
محفل کا ماحول کچھ نرم ہوا تو میر گل خان نصیر نے گفتگو کو ادب اور زبان کی طرف موڑ دیا۔
’’لالا، سیاست نے ہمیں بہت کچھ دیا اور بہت کچھ ہم سے چھین بھی لیا۔ مگر ایک چیز جسے ہمیں کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، وہ اپنی زبان اور ثقافت ہے۔ کوئی قوم اپنی زبان کو کمزور ہونے دے تو اس کی اجتماعی یادداشت بھی آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتی ہے۔‘‘
لالا حکیم نے کہا:
’’بالکل۔ زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں؛ یہ ہمارے بزرگوں کی یاد، ہماری ماؤں کی لوریاں، ہمارے محاورے، ہماری محبت، ہماری مزاحمت اور ہمارے خوابوں کی امانت ہے۔ جس زبان میں ایک ماں اپنے بچے کو پہلی بار پکارتی ہے، اس زبان میں ایک پوری تہذیب سانس لیتی ہے۔‘‘
پروفیسر صبا دشتیاری کا ذکر آیا تو گفتگو میں علم، تحقیق اور فکری آزادی کا پہلو بھی شامل ہو گیا۔ ان کی یاد کے ساتھ یہ احساس ابھرا کہ کتاب، قلم اور سوال کرنے کی آزادی کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے کتنی ضروری ہے۔
لالا حکیم نے کہا:
’’ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف ماضی کی عظمت کے قصے نہیں سنانے چاہییں۔ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ تاریخ کو سمجھنے کے لیے تحقیق درکار ہے، اختلاف کو برداشت کرنے کے لیے حوصلہ چاہیے، اور مستقبل بنانے کے لیے علم ضروری ہے۔ محبتِ وطن اگر علم سے جدا ہو جائے تو کبھی کبھی محض جذبات بن کر رہ جاتی ہے؛ اور علم اگر انسانوں کے دکھ سے جدا ہو جائے تو وہ بے روح ہو جاتا ہے۔ ہمیں دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔‘‘
میر گل خان نصیر نے جواب دیا:
’’شاعری دل کو بیدار کرتی ہے، تاریخ یادداشت کو محفوظ رکھتی ہے، اور علم انسان کو سوال کرنا سکھاتا ہے۔ ان تینوں کا رشتہ مضبوط رہے تو قومیں اپنے ماضی سے سیکھ کر مستقبل کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔‘‘
یاسمیں نے آہستہ سے پوچھا:
’’لالا، کیا ہماری زبان میں بھی ہمارے لیے جگہ رہے گی؟‘‘
لالا حکیم نے اس کی طرف محبت سے دیکھا۔
’’میری بچی، زبان تمہاری بھی ہے، تمہارے بزرگوں کی بھی اور تمہارے بعد آنے والوں کی بھی۔ زبان کسی ایک نسل کی ملکیت نہیں ہوتی۔ اسے زندہ رکھنے کے لیے اسے بولنا، لکھنا، پڑھنا، سکھانا اور نئی نسلوں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ تمہارے نام، تمہاری کہانیاں اور تمہاری یادیں بھی اسی زبان کی امانت بن سکتی ہیں۔‘‘
اِزگل نے گلدستے کو سنبھالتے ہوئے کہا:
’’تو پھر ان پھولوں کو بھی اپنی کہانی میں جگہ دیجیے گا، لالا۔‘‘
لالا حکیم مسکرا دیے۔
’’ضرور، میری بچی۔ کیونکہ کبھی کبھی چند پھول پوری کتاب سے زیادہ بات کہہ جاتے ہیں۔‘‘
پرانی رفاقتوں کا بے تکلف لمحہ
گفتگو کے سنجیدہ رنگ میں بھی پرانے دوستوں کی محفل اپنی بے تکلفی کھونے پر آمادہ نہ تھی۔
میر غوث بخش بزنجو نے لالا حکیم سے کہا:
’’لالا، تم دنیا میں بھی گفتگو کو آسانی سے ختم نہیں ہونے دیتے تھے۔ ہر بات سے ایک نئی بحث نکال لیتے تھے۔ لگتا ہے یہاں بھی ہمیں آرام نہیں ملنے والا!‘‘
لالا حکیم ہنسے۔
’’میر صاحب، آپ لوگ موجود ہوں تو خاموش رہنا بھی ایک سیاسی جرم محسوس ہوتا ہے!‘‘
عطااللہ مینگل نے کہا:
’’اور اگر بابا مری ساتھ بیٹھے ہوں تو اختلاف کے بغیر محفل مکمل ہی نہیں ہوتی۔‘‘
بابا مری نے مسکرا کر جواب دیا:
’’اختلاف سے گھبرانے والوں کو شاید محفل سے زیادہ خاموشی پسند ہوتی ہے۔‘‘
سب ہنس پڑے۔ یاسمیں اور اِزگل بھی اس ہنسی میں شریک ہوئیں۔ شاید یہ وہی لمحہ تھا جس میں دکھ اور محبت ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ موجود تھے۔ زندگی کی تلخیوں کو یاد کرتے ہوئے بھی انسان ہنس سکتا ہے، کیونکہ پرانی رفاقتوں میں صرف سیاسی تاریخ نہیں ہوتی؛ وہاں روزمرہ کے لطیفے، چھوٹی چھوٹی شرارتیں، بے تکلف جملے اور وہ لمحے بھی ہوتے ہیں جو کسی کتاب میں درج نہیں ہوتے مگر دل میں محفوظ رہتے ہیں۔
لالا حکیم نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا۔
’’میں نے زندگی میں یہ سیکھا کہ جدوجہد کرنے والے انسانوں کو صرف ان کے سیاسی مؤقف سے یاد نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں ان کی محبت، ان کے ظرف، ان کی کمزوریوں، ان کی ہنسی اور ان کی انسانیت کے ساتھ بھی یاد رکھنا چاہیے۔ ورنہ ہم اپنے دوستوں کو بھی تاریخ کے مجسموں میں بدل دیتے ہیں، حالانکہ وہ ہماری طرح گوشت پوست کے انسان تھے۔‘‘
میر گل خان نصیر نے کہا:
’’یہی بات یادداشت کو زندہ رکھتی ہے۔ مجسمے خاموش ہوتے ہیں، مگر انسانوں کی حقیقی کہانیاں بولتی رہتی ہیں۔‘‘
گلدستے کا آخری پھول
محفل پر ایک بار پھر سکون اتر آیا۔ نور کی نرم روشنی میں وقت جیسے ٹھہر گیا تھا۔
لالا حکیم نے گلدستہ اپنے ہاتھوں میں سنبھال رکھا تھا۔ اس کے پھول اب محض پھول نہیں رہے تھے۔ وہ پرانی دوستیوں، نامکمل خوابوں، وطن کی محبت، معصوم زندگیوں اور اس انسانی ذمہ داری کی علامت بن گئے تھے جو ہر نسل اگلی نسل کے حوالے کرتی ہے۔
یاسمیں نے پوچھا:
’’لالا، کیا آپ کو ہمارا یہ تحفہ یاد رہے گا؟‘‘
لالا حکیم نے جواب دیا:
’’میری بچی، کچھ تحفے یاد رکھنے کے لیے نہیں ہوتے؛ وہ دل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ گلدستہ بھی میرے لیے ایسا ہی ہے۔‘‘
اِزگل نے مسکرا کر کہا:
’’پھر اسے اپنے پاس رکھیے گا۔‘‘
لالا نے دونوں بچیوں کے سروں پر محبت سے ہاتھ رکھا۔
’’یہ میرے پاس رہے گا، اور اس کے ساتھ تمہاری محبت بھی۔‘‘
میر غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل، بابا مری، میر گل خان نصیر اور صبا دشتیاری کی یاد اس محفل میں ایک ساتھ موجود تھی۔ پرانی رفاقتیں پھر سے گفتگو کر رہی تھیں۔ کسی نے ماضی کے زخموں کو نہیں چھپایا، کسی نے جدوجہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا، مگر اس تخیلاتی دنیا میں ہر گفتگو کے ساتھ ایک نئی نرمی بھی پیدا ہوتی رہی۔
اور اس سب کے درمیان دو ننھی بچیاں بیٹھی تھیں؛ یاسمیں اور اِزگل۔ ان کے ہاتھوں نے جو گلدستہ پیش کیا تھا، اس نے بڑے بڑے سیاسی سوالوں کو ایک سادہ انسانی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا تھا: ہر جدوجہد کی قدر اس وقت بڑھتی ہے جب وہ انسان کی زندگی، عزت، امن اور امید کے لیے جگہ پیدا کرے۔
شاید اسی لیے اس محفل کی سب سے گہری تصویر کسی بڑے رہنما کی تقریر نہیں، نہ کسی تاریخی فیصلے کا اعلان، نہ کسی نظریاتی بحث کا اختتام تھی۔ اس محفل کی سب سے گہری تصویر ایک بزرگ سیاسی کارکن کے ہاتھوں میں تھاما ہوا پھولوں کا گلدستہ تھا، جسے دو معصوم بچیوں نے محبت سے پیش کیا تھا۔
لالا حکیم لہڑی کے گرد پرانے دوست بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے وطن کی یادیں تھیں، ان کے ساتھ رفاقتوں کی روشنی تھی، اور ان کے ہاتھوں میں یاسمیں اور اِزگل کے پھول تھے۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی زندگی ختم ہو سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ وابستہ محبت اور یادیں ختم نہیں ہوتیں۔ ایک نسل دوسری نسل کو صرف تاریخ کے واقعات نہیں دیتی؛ وہ اسے دکھ، خواب، زبان، روایت اور امید بھی سونپتی ہے۔
اور شاید اسی امانت کا نام وطن ہے۔
لالا حکیم لہڑی کی یاد کو سلام؛ ان رفاقتوں کو سلام جو موت کے بعد بھی یادوں میں زندہ رہتی ہیں؛ اور ان معصوم پھولوں کو سلام جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں کی زندگی، عزت اور امید سے الگ نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں