پاکستانی فورسز سعودیہ میں صرف دفاع کے لیے موجود ہیں یمن پر حملے کی خبریں درست نہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے موجود ہیں تاہم یمن پر پاک فضائیہ کی کارروائی یا کسی اسٹرائیک کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب اسٹریٹجک پارٹنر ہے مکہ معاہدے سے متعلق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے مکمل مشاورت کی، سیاسی قیادت اس سارے معاہدے میں مشاورت میں شامل تھی، ترکی کی جانب سے گراؤنڈ فورسز کا فیصلہ کرنا ان کا اپنا معاملہ ہے ترکی مکہ معاہدے کا حصہ ہے اور دفاع کی ذمہ داری تمام رکن ممالک پر ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہے، یمن پر پاک فضائیہ کی کارروائی یا کسی اسٹرائیک کی خبریں بے بنیاد ہیں، پاکستان کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے، پاکستان کے اپنے رولز آف بزنس ہیں ہم نے سب چیزیں مشاورت سے طے کیں۔

انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا، پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی، کمیٹی نے دفاعی کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

مکہ دفاعی معاہدے کی پارلیمنٹ سے منظوری کے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے مشترکہ میں شامل ہونا پوری حکومت کا فیصلہ تھا یہ کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں، معاہدے میں شامل ہونے پر وزیر اعظم کی سربراہی میں میٹنگز ہوئیں، وزیر اعظم اور نائب وزیراعظم دونوں سیاسی لوگ ہیں اور کابینہ کے ممبران ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں