کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود خلیج کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار، میرٹ اور بامعنی مکالمے کے ذریعے ختم کیا جائے گا، حکومت نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کے بجائے قانونی معیشت کا حصہ بننے کے لیے مواقع، وسائل اور رہنمائی فراہم کر رہی ہے حکومت کا مقصد صرف نوجوانوں کو تربیت دے کر سرٹیفکیٹ دینا نہیں بلکہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، حکومت بلوچستان ہنر سیکھنے والے نوجوانوں کو سازگار ماحول، بلا سود قرضے، کاروباری معاونت اور مسلسل رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے علاقوں میں یا ملک کے کسی بھی حصے میں باعزت کاروبار شروع کرسکیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کوئٹہ میں محکمہ صنعت و تجارت حکومت بلوچستان اور بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام حکومت بلوچستان کے فنڈڈ ریزیلینس، انٹیگریشن اینڈ سوشیو اکنامک ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت ضلع کیچ، گوادر، پنجگور اور خاران سے تعلق رکھنے والے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے تربیت یافتہ گریجویٹس میں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب میں تربیت مکمل کرنے والی خواتین اور طالبات میں اسناد بھی تقسیم کیں۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، مشیران، پارلیمانی سیکرٹریز، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، بی آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طاہر رشید اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج کی تقریب دراصل ان نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی اور اعتراف کا موقع ہے جنہوں نے اپنے گھروں سے نکل کر ہنر حاصل کیا اور تربیت مکمل کرکے ایک نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ ان کے لیے یہ ایک اہم لمحہ ہے کیونکہ جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو ایک بڑا چیلنج حکومت اور نوجوانوں کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، کابینہ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین نے محسوس کیا کہ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان ایک خلا پیدا ہوچکا ہے، خاص طور پر ریاست کے ساتھ نوجوانوں کی وابستگی میں کمی ایک اہم چیلنج تھی۔ تشدد کو وہ بنیادی چیلنج نہیں سمجھتے، اصل چیلنج نوجوانوں کو ریاست پاکستان کے ساتھ دوبارہ جوڑنا ہے اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کو اس مقصد کے لیے اپنے ساتھ شامل کیا تاکہ ریاست، حکومت اور نوجوانوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا جاسکے اور پروگرام کے شفاف نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔ اگر حکومت براہ راست اس نوعیت کے منصوبے شروع کرتی تو سرکاری طریقہ کار کے باعث تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے تھے، اس لیے بی آر ایس پی جیسے ادارے کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پروگرام صرف تربیت اور سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر کے بعد کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانا اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔ بی آر ایس پی حکومت بلوچستان کے تعاون سے تربیت مکمل کرنے والوں کی مسلسل رہنمائی کرے گا، نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں کاروباری سرگرمیوں کے لیے تیار کیا جائے گا اور حکومت کئی سال تک ان کی معاونت جاری رکھے گی تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی کوشش ہے کہ تربیت یافتہ نوجوان خواتین اور مرد نہ صرف خود روزگار حاصل کریں بلکہ مستقبل میں اپنے خاندانوں اور دیگر نوجوانوں کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن تربیت مکمل کرنے والوں کے سفر کا اختتام نہیں بلکہ نئے سفر کا آغاز ہے، حکومت بلوچستان انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے ان کا ہاتھ تھامے رکھے گی جہاں وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ انہوں نے سرحدی اضلاع کے نوجوانوں کے لیے حکومت کے روزگار پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ سوچ کر پروگرام شروع کیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں سے وابستہ معیشت کے بجائے نوجوانوں کو قانونی روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ زمباد اور اسمگلنگ نوجوانوں کا مستقبل نہیں ہوسکتے، نوجوانوں کو قانونی معیشت کا حصہ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی بچیوں کو تشدد کی طرف لے جانے، انہیں خودکش جیکٹس پہنانے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں نہ معاشرے کی روایات سے مطابقت رکھتی ہیں، نہ اسلام اور نہ ہی انسانی اقدار اس کی اجازت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کی کوششوں کا مقابلہ تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور مواقع فراہم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر قانونی دائرے کو محدود کرنے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے قانونی دائرے میں ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جن کے ذریعے وہ اپنے ہنر کو بروئے کار لاکر کاروبار اور روزگار حاصل کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے تربیت، سازگار ماحول، مالی معاونت اور بلا سود قرضوں پر مشتمل ایک جامع پیکیج متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ان کے لیے خصوصی ترجیح رکھتی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ صوبے کی بچیوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ معاشرہ اس وقت حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا جب خواتین معاشی اور سماجی میدان میں آگے بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ خواتین کی معاشی شمولیت نے وہاں کی معیشت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جب بلوچستان کی خواتین آگے بڑھیں گی تو وہ اپنے بھائیوں، شوہروں اور بچوں کو بھی ترقی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف لے جائیں گی۔ حکومت اسی وڑن کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں مدعو کرنا بھی اسی عزم کا اظہار ہے تاکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے حکومتی وڑن کو عملی طور پر نمایاں کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت صحت کے شعبے میں بھی جدید اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرا رہی ہے اور صوبے میں ڈیجیٹل صحت کے اقدامات کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت کو سری لنکا میں عالمی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا جبکہ اب ناروے میں بھی انہیں مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے اور نوجوانوں کو ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کا مقصد نوجوانوں کو ہنرمند، کاروباری اور باعزت شہری بنانا ہے۔ غیر قانونی سرگرمیوں کو چھوڑ کر قانونی دائرے میں آگے بڑھنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سرحدی اضلاع سے اس پروگرام کا آغاز کیا کیونکہ یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ وہاں نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہیں، اس لیے وہ اسمگلنگ کی طرف جاتے ہیں۔ حکومت نے اس سوچ کا عملی جواب دیا ہے اور نوجوانوں کو متبادل مواقع فراہم کیے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ سرحدی اضلاع کی ان بچیوں نے اپنے گھروں سے نکل کر تربیت حاصل کی ہے، جو آسان فیصلہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرے سے تعلق رکھنے کے باعث وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ بچیوں کو گھر سے نکل کر تربیت اور روزگار کے لیے آگے آنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ باعث فخر ہے کہ بلوچستان کی بچیاں ان مشکلات کے باوجود آگے بڑھ رہی ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے لیے اس پروگرام کو صرف سرحدی اضلاع تک محدود نہیں رکھے گی بلکہ اسے پورے صوبے تک وسعت دی جائے گی۔ نوجوانوں اور ریاست کے درمیان موجود فاصلے کو مکالمے، بااختیار بنانے، روزگار، ملازمتوں کے مواقع اور میرٹ کی بالادستی کے ذریعے کم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 15 ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں اور حکومت نے میرٹ کو بنیادی اصول بنایا ہے۔ انہوں نے میڈیا اور عوام سے کہا کہ اگر کسی بھرتی میں میرٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔ حکومت احتساب کے لیے تیار ہے اور میرٹ کی بالادستی کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مہم بھی بھرپور انداز میں جاری ہے، کیونکہ جب تک معاشرے کو کرپشن کی لعنت سے نجات نہیں ملتی اور میرٹ کو فروغ نہیں دیا جاتا، ترقی کا سفر مکمل نہیں ہوسکتا انہوں نے جناح پیپلز ٹرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے پچاس روپے کے کرائے میں جدید سفری سہولت فراہم کی ہے تاکہ مزدور، طلبہ، خواتین اور عام شہری باعزت انداز میں سفر کرسکیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹرین پر پتھراؤ، نشستوں کو نقصان پہنچانے اور اس کے پرزے چوری کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جناح پیپلز ٹرین عوام کے لیے ہے، نہ کہ وزیر اعلیٰ، چیف سیکرٹری یا کابینہ کے اراکین کے لیے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سہولیات کی حفاظت خود کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو جدید سفری سہولت فراہم کی ہے اور شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری املاک کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پنک بسوں اور گرین بسوں کی سروسز کو بھی بلوچستان کے دیگر علاقوں تک وسعت دی جارہی ہے۔ تربت میں گرین بس سروس کے لیے عوامی استعمال کی شرح حوصلہ افزا ہے اور چار بسوں سے شروع ہونے والی سروس کو مزید بڑھایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کو صرف روزگار ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔ ان کے لیے ہارورڈ اور آکسفورڈ سمیت دنیا کی معروف جامعات میں پی ایچ ڈی پروگرامز اور وظائف کے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کے لیے پروپیگنڈا استعمال کرتے ہیں، نوجوانوں کو ان کے بیانیے کے بجائے تعلیم، ہنر اور ترقی کے مواقع کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کمشنر ایک ڈویڑن کی سربراہی کررہی ہیں، جو خواتین کو آگے لانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مزید پروگرامز شروع کرے گی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ رواں سال نوجوانوں کے لیے تین ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اگر بی آر ایس پی، اخوت پاکستان اور محکمہ صنعت و تجارت اس رقم کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہیں تو حکومت مزید تین ارب روپے فراہم کرے گی، اس کے بعد اس رقم کو نو ارب اور پھر گیارہ ارب روپے تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ حکومت نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو نوجوان تشدد کے راستے پر ہیں، ان کے لیے بھی ریاست اور حکومت کے دروازے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو حکومت انہیں تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں اور تشدد کے بجائے عزت، تعلیم، ہنر اور ترقی کا راستہ اختیار کریں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے لیے ایک طرف تعلیم،

