جمہوری پاکستان کیلئے ہر طرح کے مذاکرات پر تیار ہیں، محمود اچکزئی کی حکومت کو پیشکش

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم جمہوری پاکستان کے لیے ہر طرح کے مذاکرت کے لیے تیار ہیں، ہمیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں، ہم لکھ کر دیتے ہیں باہر آ کر کچھ نہیں بتائیں گے۔

اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مجھے کہتے ہیں محمود خان نہیں ملنا چاہتا، میں ملنا چاہتا ہوں اور ہر جگہ مل لوں گا مگر وزیر اعظم ہاؤس اور اسپیکر آفس میں نہیں ملوں گا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو رونے کی بھی اجازت نہیں، یہ مینڈیٹ بھی چوری کرتے ہیں رونے بھی نہیں دیتے، ہم آئین کا رونا رو رہے تھے کہ انہوں نے صوبے میں گورنر راج و ایمرجنسی لگا دی، آئین توڑنے والوں پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، موجودہ حکومت سب سے بڑی دہشتگرد ہے، جو پارٹیاں اس دہشتگردی کو سپورٹ کررہی ہیں وہ تاریخ کا حصہ بنیں گی۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جن بنیادوں پر کے پی کے میں گورنر راج لگایا ہے اس سے زیادہ برے حالات بلوچستان میں ہیں، آدھا بلوچستان فورسز کے لئے نو گو ایریا بن چکا ہے، بلوچستان کا وزیر اعلیٰ آپ کا لاڈلا ہے وہاں جو کچھ لوٹا جا رہا ہے کوئی کارروائی نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج بہت بڑا حملہ ہے، ہم اپنی جماعتوں کو ہدایت کریں گے کہ کل سے پورے ملک میں اپنی حیثیت کے مطابق احتجاج کریں، ہر ضلع میں ہم پر امن احتجاج کریں گے، ہم اس نظام کے خلاف جدوجہد بھی جاری رکھیں گے اور مذاکرت بھی کریں گے۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ جن جن اضلاع میں ایمرجنسی نہیں لگی وہاں بھر پور احتجاج کریں گے، چار کروڑ انسانوں کے حق رائے دہی کا مذاق اڑایا گیا ہے، یہ حکومت عمران خان کو یہاں سے بھگانا چاہتی ہے مگر وہ نہیں جاتا، پاکستان تب آگے بڑھے گا جب پارلیمنٹ مضبوط ہوگا۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ 11 اکتوبر جمہوری تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، وزیر اعلیٰ کو حراست میں رکھا گیا، کے پی کی عوام ایمرجنسی اور گورنر راج کو مسترد کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے نظریے کے حامی جیل میں ہیں، کل ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اگلا لائحہ عمل طے کریں گے، غیر جمہوری اقدامات کیخلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں گیارہ اکتوبر کے اقدامات کو واپس لیں، دہشت گردی کے خلاف عوام تقسیم نہ کریں، پاکستان کا مقدر جمہوریت ہے، وفاق تب مضبوط ہوگا جب صوبے مضبوط ہونگے، حکومت نے ہٹ دھرمی دکھائی، اچانک ہی حکومتی مشینری تبدیل کی گئی، حکومت کے ساتھ آخری وقت تک رابطے تھے۔

علامہ راجہ ناصر عباس

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہمارا سامنا فریب کاروں اور جھوٹوں سے ہے، متفقہ آئین کو متنازع بنایا جارہا ہے، سیاسی کارکنوں کو دہشت گردوں سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا آئین شکنوں سے واسطہ پڑ گیا ہے، آئیں مل کر صوبے کی عوام کے ساتھ مل دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں وہاں ایمرجنسی لگائیں، بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اگر عوام نے ساتھ نہ دیا حالات اس سے بھی بد تر ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں