سینئر صحافی ایم اسلم عاجز مینگل
مقدس پیشے سے تجارت کا سفر ۔
آج کلمہ حق کہنے کے بجائے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سی خبر زیادہ سے زیادہ بکتی ہے۔ صحافت جو کبھی عوام کی آواز اور مظلوم کا سہارا ہوتی تھی، اب سنسنی خیزی اور تجارتی اشتہارات کا یرغمال بن چکی ہے۔
حقیقی مسائل جیسے تعلیم، صحت، غربت اور عوامی تکالیف کو پسِ پشت ڈال کر صرف سنسنی خیز اور غیر اہم باتوں کو مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ویوز اور ریٹنگز حاصل کی جا سکیں۔
صحافتی اخلاقیات کو نظر انداز کر کے حقائق کو مسخ کرنا اور طاقتور حلقوں یا کاروباری اداروں کے مفادات کی ترجمانی کرنا معمول بن چکا ہے۔
صحافت اگر بیدار مغزی اور بے باکی کا نام تھی، تو آج مفاد پرستی اور خاموشی نے اس کے روح کو زخم زخمی کر دیا ہے۔
کیا صحافت واقعی مکمل طور پر مر چکی ہے؟
شاید بڑی حد تک تجارتی میڈیا کا یہی حال ہو، لیکن صحافت کی روح تب تک زندہ رہتی ہے جب تک چند ضمیر فروشوں کے درمیان کچھ ایسے باضمیر اور بے باک صحافی اور قلمکار موجود رہیں جو
اپنے قلم کی حرمت کا سودا نہیں کرتے۔
سچ بات کہنے سے نہیں ڈرتے۔
عوام کے مسائل کو بے باکی سے اجاگر کرتے رہتے ہیں۔

