محمد اظہارالحق
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو مگر ایک شرط تم بھی رکھو کہ دس بھُنے ہوئے بکرے دسترخوان پر اکٹھے نہیں رکھے جائیں گے۔ ایک ایک بکرا لایا جائے گا۔ جب اسے کھا چکیں گے تب اگلا بکرا پیش کیا جائے گا۔ لڑکی والوں نے جوابی شرط مان لی۔ چاچے کی تدبیر کارگر نکلی۔ ایک ایک بکرا آتا گیا اور باراتی چٹ کرتے گئے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک روٹی کھانے والا شخص جب دوستوں رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے اور روٹی ایک ایک کر کے پیش کی جاتی ہے تو بہت زیادہ کھائی جاتی ہیں۔ ایک روٹی کھانے والا دو تین کھا جاتا ہے۔
بے برکت ہے وہ گھر جس میں کوئی بزرگ نہ ہو۔ پی ایچ ڈی نوجوان کے مقابلے میں نیم تعلیم یافتہ بابا یا چاچا یا ماما بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر طور پر سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بے برکت ہے وہ محلہ جس میں بوڑھے نہ ہوں۔ جھگڑے ختم کرانا ان کیلئے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ بے برکت ہے وہ ملک جس کے پاس آزمودہ کار سیاستدان نہ ہوں۔ سیاست اور حکومت میں ایک عمر گزارنے والے سیاستدان گرداب میں پھنسی کشتی کو نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ تجربوں کی بھٹی انہیں کندن بنا چکی ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت جب کسی مشکل میں ہوتی ہے تو ان تجربہ کار بوڑھے سیاستدانوں سے مشورہ کرتی ہے‘ ان کی بات غور سے سنتی ہے اور با مراد ہوتی ہے۔ اس وقت ملائیشیا اور پاکستان دو ایسے خوش قسمت ملک ہیں جہاں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ اوّل الذکر میں جناب مہاتیر محمد! اور پاکستان میں ہمارے محبوب قائد! جو کئی بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ عمر 76برس ہے اور تجربہ کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ صوبے اور وفاق دونوں میں بلند ترین مناصب پر رہ چکے ہیں! ان کا مقام اس وقت ایک بزرگ قائد کا ہے۔ اہلِ پاکستان خوش بخت ہیں کہ وہ ہر کڑے وقت میں قوم کے کام آتے ہیں۔ تجربے اور تدبر کا یہی تو فائدہ ہے۔
اس وقت ملک کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ بلوچستان میں حالات خطرناک حد تک خراب ہیں۔ عوام وہاں کے برا فروختہ ہیں‘ امن و امان عنقا ہو چکا۔ بھارت اور افغانستان دونوں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے مسلسل دراندازی دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے شہری‘ فوجی اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے پنجے میں بری طرح جکڑے ہو ئے ہیں۔ ہمارا دیرینہ دوست سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کا شکار ہے۔ ایران امریکہ جنگ ختم نہیں ہوئی‘ چنگاری کسی وقت بھی دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔ عوام میں اضطراب ہے‘ بے چینی ہے۔ مگر الحمدللہ! تین بار حکمرانی کا‘ بلکہ جہانبانی کا تجربہ رکھنے والے ہمارے محبوب قائد ہم میں موجود ہیں۔ آپ ان درپیش مسائل کے حل کیلئے راتوں کو جاگ رہے ہیں اور دن بھر سفارتکاروں‘ سیاستدانوں اور ماہرینِ معیشت کی آرا سنتے اور تجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا قدم آپ نے اس ضمن میں یہ اٹھایا کہ بسنت کے انعقاد اور حتمی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ پتنگ‘ ڈور اور گڈی کے نمونے دیکھے۔ اس اہم اجلاس میں کائٹ فلائنگ کی مختلف ایسوسی ایشنوں کو بھی بلایا گیا مگر انہیں ملاقات کے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ مشاورت 2027ء کی بسنت کے حوالے سے تھی۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں قائد نے 2026ء کی بسنت بھی اندرون شہر منائی تھی۔ انہوں نے چھت پر بیٹھ کر اُڑتی پتنگوں کا نظارہ کیا ‘ ڈور اور گڈے کو پکڑا تھا۔ ڈور کی تعریف کی تھی۔ اس موقع پر مہمانوں کے سامنے ہریسہ‘ مٹن چنے‘ انڈوں کا حلوہ اور مٹن پلاؤ پیش کیے گئے تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق‘ مبینہ طور پر‘ تحریک پاکستان کے شیدائی اور قائداعظم سے محبت کرنے میں پیش پیش‘ سینیٹر پرویز رشید بھی اس اہم اور تاریخی موقع پر موجود تھے۔ مگر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ قائد کے پسندیدہ پتنگ ساز جناب اشرف پیدی اس اہم موقع پر موجود تھے یا نہیں۔ یاد رہے کہ قائد محترم ایسے کاریگروں کی ہمیشہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق سفارتکار کی ایک تصنیف کے مطابق محترم قائد نے‘ جب وہ وزیراعظم تھے‘ اپنے پسندیدہ کبابچی کو ترکی سے بلا کر سرکاری مہمان کے طور پر رکھا تھا۔
ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کیلئے محترم قائد عالمی سطح پر بھی کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے وہ اسی سلسلے میں‘ ایک سپیشل طیارے میں سنگا پور تشریف لے گئے۔ قائد بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی سیاست کا مرکز لندن ہے۔ یوں تو قائد سوئٹزر لینڈ بھی جاتے رہتے ہیں مگر ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے سب سے زیادہ ان کا دورہ لندن کا ہوتا ہے۔ کچھ عقل کے اندھے الزام لگاتے ہیں کہ زندگی ان کیلئے پکنک سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کہ وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر‘ لندن کے دورے بہت زیادہ کرتے ہیں اور وہاں ان کا قیام طویل بھی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ کے پی اور بلو چستان کے حالات کے تناظر میں‘ تین دن پہلے وہ ایک بار پھر لندن تشریف لے گئے ہیں۔
ہفتہ ڈیڑھ پہلے قائد نے مری میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں مری کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ کم نظر مخالفین نے اس پر گرہ لگائی کہ قائد محترم کو صرف لا ہور‘ رائیونڈ اور مری میں دلچسپی ہے اس لیے کہ ان کے قیمتی اور عالیشان محلات انہی شہروں میں واقع ہیں اور وہ رائیونڈ کے علاوہ صرف مری میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ملک کے کسی اور حصے یا شہر کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ وہ ملک کے ہر حصے میں جاتے ہیں۔ مری کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے انہوں نے ملک‘ خصوصاً پنجاب کے تمام اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور اجلاسوں کی صدارت کی۔ ملک کیلئے وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ خدا ان کا سایہ ملک و قوم پر ہمیشہ رکھے۔
Load/Hide Comments

