پشاور: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد گرفتاریوں کے خوف سے معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پوری کابینہ نے روپوشی اختیار کرلی، کابینہ کے 16 وزیر، چھ مشیر، آٹھ معاون خصوصی اور 23 پارلیمانی سیکرٹریز پانچ روز سے لاپتہ ہیں، جبکہ سہیل آفریدی کی گرفتاری کے وقت بھی کیبنٹ کے وزیر بھی ساتھ نہیں تھے۔
وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی 10 اور 11 اکتوبر کی رات سے جب ایمرجنسی کی اطلاعات سامنے آنے لگیں تو کابینہ سمیت تحریک انصاف کی صوبائی قیادت معزول وزیراعلی سہیل آفریدی سے الگ ہوگئے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ 10 اکتوبر کو جب سہیل آفریدی مردان سے وزیراعلی ہاوس پہنچے تو کور کمیٹی کے اجلاس میں انھیں اطلاع دی گئی کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کر چکی ہے اسی دوران معزول وزیراعلی کے اردگرد رہنے والے ساتھی ایک ایک کرکے وزیراعلی ہاوس سے چلے گئے۔
حکومتی کابینہ میں 16 وزیر، چھ مشیر، آٹھ معاون خصوصی اور 23 پارلیمانی سیکرٹریزتھے لیکن اپنے ٹیم لیڈر مشکل وقت میں نہیں تھے، گرفتاریوں کے خوف سے کابینہ کے ارکان روپوشی اختیار کرچکے ہیں جن موبائل فون بند ہونے کے ساتھ منظر عام پر بھی نہیں آرہے۔
گورنرراج اور ایمرجنسی سے قبل ہی حکومتی کابینہ کے دو وزراء فضل شکور اور ڈاکٹر امجد علی مبینہ طور پر اغواء کر لیے گئے، تحریک انصاف کے مطابق 8 ارکان صوبائی اور 3 ارکان قومی اسمبلی لاپتہ ہیں۔

