ویب ڈیسک: گزشتہ ماہ سانحہ دیر کالونی کے بعد محکمہ تعلیم نے غیر محفوظ اسکول عمارتوں سے طلبہ کی فوری منتقلی کا حکم جاری کر دیا ہے۔
محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا نے خستہ حال اور خطرناک سکول کی عمارتوں اور ان کے غیر محفوظ حصوں سے طلبہ کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اس حوالے سے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈی ای اوز) کو مراسلہ ارسال کیا گیاہے جس میں غیر محفوظ عمارتوں میں زیر تعلیم طلبہ کو فوری طور پر محفوظ عمارتوں اور کمروں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو اسی سکول کے محفوظ حصوں یا قریبی سرکاری سکولوں میں منتقل کیا جائے اور اگر سرکاری سکولوں میں سہولیات دستیاب نہ ہوں، تو طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے کرائے کی عمارتوں کا بندوبست کیا جائے۔
محکمے نے مراسلے میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ صرف ان عمارتوں کے غیر محفوظ حصوں اور کمروں کو خالی کروا کر سیل کیا جائے گا جنہیں خطرناک قرار دیا گیا ہے، پوری عمارت کو خالی کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق خطرناک اسکول کی عمارتوں اور ان کے غیر محفوظ حصوں کی نشاندہی محکمہ مواصلات و تعمیرات (Communication and Works Department) اور تیکنیکی ماہرین نے کی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پشاور کی دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے نتیجے میں 33 بچے اور خاتون ٹیچر شہید ہو گئے تھے۔

