وقاص مون
ہمارے ایک نہایت پیارے دوست طارق شاہین بھائی، جو پھول نگر میں ”ٹی لور” کے نام سے مشہور ہیں، چائے کے ایسے شوقین ہیں کہ اگر لاہور بیٹھا کوئی شخص انہیں ایک کپ چائے کی دعوت دے دے تو وہ جھٹ سے لاہور جانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب بارشیں زوروں پر تھیں ہم اپنے دفتر میں بیٹھے بارش کو انجوائے کررہے تھے کہ تو انہوں نے حسبِ عادت چائے پینے کی فرمائش کر ڈالی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دوست مجبوراً بارش میں شہر سے باہر ایک چائے کیفے جا پہنچے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کا یہ جنون ہمیں بھی ساتھ بیٹھنے اور دن بھر کی تھکن اتارنے کا بہترین بہانہ دے دیتا ہے۔ چائے کی بھاپ اُڑاتی پیالی کے ساتھ تھکن، ٹینشن اور الجھنیں وہیں رہ جاتیں، اور ہم ہلکے پھلکے واپس آ جاتے ہیں۔طارق بھائی کا شوق بس یہیں تک محدود نہیں۔ وہ بڑے فخر سے اعلان کر چکے ہیں کہ ایک لاکھ کپ چائے کی ویڈیوز بنا کرسوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں گے۔ ان کا یہ بیان پہلے ہمیں مذاق لگا، لیکن اگر ان کی روزمرہ کی رفتار دیکھیں تو لگتا ہے انکا یہ خواب زیادہ دور نہیں۔ مگر یہ صرف طارق بھائی کی کہانی نہیں، یہ ہم سب کی کہانی ہے۔پاکستان میں چائے پینا محض عادت نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہر ملاقات کا آغاز، ہر مہمان کا استقبال، ہر آرام کا لمحہ سب چائے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند بڑے ممالک میں شامل ہے جہاں چائے سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ یہاں فی کس اوسطاً ڈیڑھ کلو چائے سالانہ پی جاتی ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ دیگر ممالک اپنی چائے خود اگاتے ہیں، جبکہ ہم زیادہ تر چائے درآمد کرتے ہیں۔ ہر سال تقریباً دو لاکھ چھیالیس ہزار میٹرک ٹن چائے باہر سے آتی ہے، جس پر پچھلے مالی سال میں تقریباً ایک سو اناسی ارب روپے خرچ ہوئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ پیسہ اگر اپنی زراعت یا صنعت پر لگایا جائے تو کتنا فائدہ دے سکتا ہے، لیکن ہم پاکستانی ہر سال اربوں روپے چائے کی چسکیوں میں اُڑا دیتے ہیں۔اب اگر چائے کے فائدے دیکھیں تو یہ نیند توڑتی ہے، دماغ کو ہشاش بشاش کرتی ہے، اور سردیوں میں جسم کو گرم رکھتی ہے۔ لیکن اس کے نقصانات کہیں زیادہ ہیں۔ خالی پیٹ چائے معدے کو خراب کرتی ہے، کیفین دل کی دھڑکن تیز کر دیتی ہے، نیند اڑا دیتی ہے، اور مسلسل زیادہ گرم چائے پینے سے حلق اور غذائی نالی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جب دودھ اور چینی شامل ہو جائیں، تو ذیابیطس، موٹاپے اور دل کی بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم چائے کو خوشی یا ذائقے تک محدود رکھنے کے بجائے ضرورت سے زیادہ عادت بنا بیٹھے ہیں۔ طارق بھائی کی ایک لاکھ کپ والی منزل اپنی جگہ، لیکن پوری قوم بھی کچھ پیچھے نہیں۔ ہم صحت، وقت اور پیسوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دن رات چائے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ چھوٹا سا کپ جو لمحاتی سکون دیتا ہے، آخرکار جسم اور جیب پر بوجھ بن جاتا ہے۔چائے بلاشبہ ہماری مہمان نوازی کی پہچان ہے، دوستوں کے ساتھ محفل کا بہانہ ہے، اور سردیوں کی جان ہے۔ لیکن جب یہی کپ ہماری معیشت پر بوجھ اور صحت کے لیے خطرہ بننے لگے تو سوچنا ضروری ہے۔اور جہاں تک طارق شاہین کی چائے سے دل لگی کا تعلق ہے وہ آج بھی بڑے اطمینان سے کہتے ہیں ”میرے دو ہی شوق ہیں اچھی چائے اور اگلا کپ“۔

