عنوان: سیلاب کا وبال………. ملکی معیشت بے حال

خان فہد خان
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، یہاں کھیت صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ قومی معیشت کے اہم ستون، صنعت کا ایندھن اور کروڑوں عوام کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں۔ مگر یہی لہلہاتے کھیت جب پانی میں ڈوب جائیں تو بات صرف کسان کی تباہی تک نہیں رہتی بلکہ پورے ملک کی زبوں حالی کی داستان بن جاتی ہے۔ حالیہ شدید بارشوں اور دریاؤں کی طغیانی نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔کسانوں کی لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرِ آب آگئیں، سبزیاں، چاول، کپاس،مکئی اور تل کے کھیت پانی کے سمندر میں ڈوب چکے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی بھی پانی کی بے رحم لہروں کے نظر ہوگئے یوں کہیں کہ دیہی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے۔ کسان جو سال بھر کی محنت کے بعد اپنے خاندان اور ملک کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے، سیلاب کے بعدصرف ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔یادرہے یہ سیلاب محض زرعی تباہی نہیں بلکہ ایک قومی بحران ہے، جو ملک گیر غذائی قلت، بڑھتی مہنگائی اور وسیع معاشی دباؤ کی صورت میں ہر گھر تک پہنچے گا۔ اقوامِ متحدہ اور ماہرین بھی اس متعلق خبردار کر چکے ہیں کہ پاکستان کو ایک بڑے غذائی بحران کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیاحکومت وقت ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیلاب کو آفت سمجھ کر نظرانداز کر دے گی یا اس بار کچھ سبق سیکھتے ہوئے پہلے سے بہتر انداز میں منصوبہ بندی کرتے ہوئے ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرے گی۔پاکستان کی معیشت بنیادی طور پر زرعی پیداوار پر کھڑی ہے۔ جب کھیت اجڑ جائیں تو نہ صرف کسان بلکہ صنعت اور برآمدات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کپاس کی فصل کی بربادی سے ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری متاثرہو گی جبکہ چاول اور گندم جیسی اجناس کی پیداوار میں ممکنہ کمی غذائی خودکفالت کو شدید خطرے میں ڈال دے گی۔ سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں کمی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مہنگا اور مشکل بنا دے گی۔جب رسد گھٹتی ہے اور طلب اپنی جگہ برقرار رہتی ہے تو اشیاء کی قیمت میں اضافہ یقینی ہے۔یہی معاشیات کا سادہ اصول ہے جو آنے والے دنوں میں مہنگائی کے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ ذخیرہ اندوز مافیا اٹھائے گا، جو پہلے بھی ایسے مواقع پر اشیاء یا اجناس کی مصنوعی قلت پیدا کرکے منافع کماتا رہا ہے۔ اگر حکومت نے سخت اقدامات نہ کیے تو غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہوجائے گی۔ حالیہ زرعی نقصان نے پاکستان کو ایک اور محاذ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب غذائی اجناس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے درآمدات میں اضافہ ناگزیر ہوجائے گا۔ لیکن پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا شکاراور قرضوں کے بوجھ تلے دبی قومی معیشت کے لیے یہ ایک نیا چیلنج بن جائے گا۔ درآمدات بڑھنے سے ڈالر کی مانگ بھی بڑھ جائے گی، اور نتیجتاً روپے کی قدر مزید گرجائے گی جس سے ملکی معیشت کو شدید بحران کا شکار ہوگی۔ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ سیلاب کا پانی صرف کھیتوں کو نہیں بلکہ قومی خزانے کو بھی بہا لے جائے گا۔حالیہ سیلاب صرف زمینوں اور فصلوں کو نہیں بلکہ دیہی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی تباہ کر گیا ہے۔ زرعی مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں، دیہات میں اشیائے ضرورت کی رسائی مشکل ہوگئی اور کسان قرضوں کے بوجھ تلے مزید دب گئے ہیں۔سیلاب سے مال مویشیوں کی ہلاکت نے دیہاتی خاندانوں کی آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ بھی چھین لیا۔اس سال آنے والے تباہ کن سیلاب نے دراصل پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑدی ہے۔پاکستان میں ہر سال مون سون میں چھوٹے یا بڑے سیلاب آتے ہیں اوریہ پہلا موقع نہیں جب سیلاب نے پاکستان کو یوں اجاڑا ہے۔پاکستانی عوام ہر سال تباہی کا منہ دیکھتے ہیں لیکن حکومت وقتی امداد اور بلند و بانگ دعوؤں کے بعد اگلے سیلاب تک خاموش ہوجاتی ہے۔ہمارے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کی لاپرواہی اورمجرمانہ غفلت نے سیلاب سے انسانی جانوں کا ضیاع،فصلوں کی تباہی،مویشیوں کی ہلاکتوں اور لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کو معمول بنادیا ہے۔ہر سال اس تباہی اور بربادی کو دیکھ کرعوام بھی عادی ہوچکی اور متاثرین بھی سیلاب کو قدرتی آفت سمجھ کر اپنے نقصان پر صبر کرجاتے ہیں۔ حالانکہ اس بڑھتی تباہی کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں کی۔بلاشبہ سیلاب فطرت کی ایک تلخ حقیقت ہے جسے مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، مگراس کی تباہ کاریوں کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت وقتی دعوؤں کی بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کرتے ہوئے سب سے پہلے پانی کی قدرتی گزرگاہوں سے قبضہ ختم کروائے،آبی گزرگاہیں قدرت کا وہ راستہ ہے جو پانی کو تباہی کے بجائے سکون سے آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے جبکہ ان راستوں پر قبضہ اور تعمیرات تباہی میں اضافے کا باعث ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ آبی گزرگاہوں کو ان کے اصل حالت میں محفوظ رکھا جائے تاکہ انسانی زندگی اور ماحول دونوں خطرات سے بچ سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے،بڑے نئے ڈیمز کی تعمیر یقینی بنائے، ریسکیو اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرتے ہوئے وارننگ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرے، اور شجرکاری و ماحول دوست پالیسیوں کو عملی جامہ پہنایا جائے تو نہ صرف انسانی جانیں اور املاک محفوظ بنائی جا سکتی ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں