بہرام بلوچ
خورشید نگوری، جو سیاسی رہنما، مصنف اور ایک علم دوست شخصیت تھے، اب ہم میں نہیں رہے۔ ان کا بچھڑنا نہ صرف ان کے خاندان کے لیے بلکہ بل نگور جیسے پسماندہ علاقے اور پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
خورشید نگوری ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم تھے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ انہیں میر غوث بخش بزنجو سے خصوصی لگاؤ تھا اور وہ ان کے اصولوں اور نظریات کے پیروکار تھے۔ وہ جمہوریت پر مکمل یقین رکھتے تھے اور اس کے فروغ کے لیے ہمیشہ اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
سیاست کے علاوہ، خورشید نگوری ایک مصنف بھی تھے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور اپنے خیالات اور نظریات کو تحریری شکل میں محفوظ کیا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بل نگور جیسے دور دراز اور پسماندہ علاقے میں رہتے ہوئے بھی علم کے شیدائی تھے۔ ھی۔ یہ ان کے علم سے محبت اور اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کرنے کے جذبے کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ان کی وفات سے بل نگور میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کا پر ہونا مشکل ہے۔ ان کی سیاسی، سماجی اور علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ خورشید نگوری ایک ایسی شخصیت تھے جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

