قادربخش بلوچ
ناوم چومسکی اپنی کتاب۔دنیا کیسے کام کرتی ھے۔۔میں رقمطراز ہیں کہ دنیا کے جتنے ممالک سہولیات سے آراستہ ہیں وہ ان کے لیڈروں کا کمال ھے۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ ایسے رہنما جو صرف اپنے ملک اور عوام کے لئے وقف ہوتے ہیں۔وہ بہت کم ہیں دنیا میں۔مسٹر چومسکی امریکہ کی جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتے۔لیکن اس بات پر زور دیتے ہیں۔کہ امریکہ کی شدید خواہش تھی کہ اپنے ہم پلہ روس کو نیست ونابود کر دے اور امریکہ اس میں کامیاب بھی ہوا۔کتاب کے مصنف برملا کہتے ہیں کہ امریکہ کے مقابلے میں چین کافی کمزور ھے۔طاقتور ممالک امریکی برتری کو مانتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک چین کے دستنگر ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ جن ممالک نے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔یہ کمال ان ممالک کے لیڈروں کا ھے۔۔تو جنوبی ایشیا کے جو ممالک اب بھی جدید دنیا کے آسائشوں سے نا آشنا ہیں۔تو کیا قصور ان ممالک کے لیڈروں کا ھے؟ویسے تو ناوم چومسکی نے یہ بات بنا لگی لپٹی کے کہی ھے کہ۔وہ لیڈر جو دنیا بدل دیتے ہیں کم ہیں۔۔ستر کے عشرے میں ایرانی طرز زندگی۔مغربی۔تھا۔۔ایران کے آخری بادشاہ رضا شاہ۔اپنی کتاب ۔میں لکھتے ہیں کہ امریکہ کی ایران سے ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ ہم امریکہ کی ہر حکم ماننے کو تیار نا تھے۔۔۔ستر کا عشرہ۔دنیا کے لئے بہت اہم رہا ھے۔اس میں کافی اتل پتل رہا ۔ایران اور سوویت یونین پارہ پارہ ہو گئے۔افغانستان ڈوب گیا۔وہ عربستان جو کبھی خلیج فارس تھا دنیا کے نقشے پر چھا گیا۔۔ نہرو نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔تلاش ہند میں جواہر لال لکھتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ الکشن کے سلسلے میں بلوچستان کے سرحد پر بھی گیے تھے۔لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں ترک عرب ایرانی افغان۔اور یونانی بھی آے۔لیکن کہیں یہ زکر نہیں ک بلوچ بھی آے۔۔اور دہلی فتح کرکے واپس گئے۔۔رہی بات دنیا کے تبدیلی کی۔تو بلوچستان میں۔اسی۔۔کے اواخر میں بلوچ نوجوان قوم پرستوں نے پہل بار الیکشن کے ریگزاروں میں قدم رکھا۔اور یہ تہیہ کیا کہ بلوچستان کے اجڑے صحراؤں کو گلشن بنا کر ہی دم لیں گے۔تو بلوچ نوجوانوں نے۔اسی۔کے دہشک میں علمی باغیچوں کو شاداب کرانے کا عمل شروع کیا۔اور علمی کھلیانوں میں پہل بار۔ڈاکٹر مالک بلوچ نے ننھی منھی بلوچ بچیوں کو داخل کر دیا۔جو مہکتے لہکتے پوری گلستان کی شکل اختیار کر گئے۔اور یہ سلسلہ ھے کہ بڑھتی جارہی ھے۔۔اور وہ علمی گلستان جو ہر طلوع آفتاب کے بعد جہاں ننھی پریوں کی جھنڈ چہکتی نظر اتی ھے۔یہ مالکی دور کے سنہرے کارنامے ہیں۔
بلوچ سیاست کے ساتھ اگر۔انجینئر حمید کا نام شامل نا ہو تو یہ بلوچ قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔انجینئر حمید بلوچ نے قوم کے لئے ہر سرد وگرم سہہ لیا ہے۔ہمیں ناوم چومسکی کی یہ بات دل کو لگتی ہے کہ قوموں کی تربیت رہنما کرتے ہیں انجینئر حمید ہی تھے کہ ہر ہفتے اپنا تربیتی لکچر مقرر کرتے تھے اور باقاعدہ اپنی پوری زانتکاری۔سیاسی دوستوں میں منتقل کرتے تھے۔ ۔تاریخ کے جھروکوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب ڈیگال۔نے محسوس کیا کہ وہ دوستوں پر کچھ بھاری ہیں۔۔تو ڈیگال کنارہ کش ہوگئے۔کچھ عرصہ بعد دوستوں نے ڈیگال کی اہمیت کو محسوس کیا۔۔تو ڈیگال کو منت سماجت کرکے واپس لاے۔۔۔اور وہی ڈیگال تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے فرانسیسی قیدیوں کو روس سے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔

