خان فہد خان
اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں نے نصف صدی سے فلسطین سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو تہہ و بالا کر رکھاہے۔ فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم، ان کی زمینوں پر قبضے اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے باوجود جاری ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ یہ انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی جنگ ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہیں۔ فرانس اور سعودیہ عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کی گئی جس پر ر ووٹنگ ہوئی تو اس قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا،جو اس حقیقت کی عکاس ہے کہ عالمی رائے عامہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگرچہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا اسرائیل اور اس کے پشت پناہ ممالک ان عالمی فیصلوں پر عملدرآمد ہونے دیں گے یا یہ قرارداد بھی ماضی کی طرح محض سفارتی کاغذوں تک محدود رہے گی؟ اسرائیل کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی بیشتر قراردادوں کو نظرانداز کیا اور طاقت کے بل پر اپنے قبضے کو بڑھاتا گیا۔اقوامِ متحدہ کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد اس مقصد کے تحت رکھی گئی کہ دنیا میں امن قائم رکھا جائے اور کمزور اقوام کو انصاف فراہم ہو۔ لیکن فلسطین کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور ان پر عمل درآمد کی ناکامی اس ادارے کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی ہے۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسی، عالمی طاقتوں کی حمایت اور مسلم دنیا کی کمزوری نے مل کر ان قراردادوں کو محض رسمی حیثیت تک محدود کر دیا ہے۔یاد رہے اسرائیلی ریاست کا قیام اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعدعمل میں آیا،جب1947ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ عرب ممالک نے اس منصوبہ کو فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دے کر مسترد کر دیا، لیکن یہودی قیادت نے اس قرار دادکو قبول کرتے ہوئے 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سے ہی اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی اور فلسطینی عوام نے اپنی بقاء کی جدوجہد کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔اقوام متحدہ نے 1947ء سے اب تک مسئلہ فلسطین کے ممکنہ حل کیلئے کئی قراردادیں منظور کی لیکن فلسطین اور فلسطینیوں کو انکا کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔سب سے پہلی قرارداد 1947ء میں فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش ہوا اور پھر اسرائیل نے اپنی ریاست قائم کر لی، لیکن فلسطینی ریاست وجود میں نہ آ سکی۔دوسری قراردادعرب،اسرائیل جنگ کے بعد 1948ء میں منظور ہوئی جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے گھروں کو واپس لوٹنے یا معاوضہ لینے کا حق دیا گیا، لیکن اسرائیل نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ آج بھی لاکھوں فلسطینی اپنا وطن ہونے کے باوجود دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔تیسری قرارداد 1967ء میں چھ روزہ جنگ کے بعد منظور کی گئی جس میں اسرائیل کو کہا گیا کہ وہ مقبوضہ عرب علاقوں (مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں اور صحرائے سینا) خالی کرے۔ مگر اسرائیل نے ان علاقوں پر اپنا قبضہ مزید مضبوط کر لیا۔اس کے بعد چوتھی قرارداد 1973ء میں یومِ کپور جنگ کے بعد منظور ہوئی، جس میں تیسری قرارداد پر عمل درآمدکیلئے زور دیا گیا لیکن اسرائیل نے اسے دوبارہ نظرانداز کیا۔چوتھی کے بعد پانچویں قرارداد فلسطینیوں کے حقوق کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2016ء میں منظور کی۔جس میں سلامتی کونسل نے نئی قائم اسرائیلی بستیوں کو ”بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی” قرار دیا۔ اسرائیل نے نہ صرف اس قرارداد کو مسترد کیا بلکہ بستیوں کی تعمیر کا عمل پہلے سے بھی تیز کر دیا۔2016ء کے بعد اب پھرستمبر،2025ء میں اسرائیل، فلسطین دو ریاستی حل کیلئے اقوام متحدہ میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ہوئی جس کے بعد عام عوام سمجھتی ہے کہ اب مسئلہ فلسطین حل ہوجائے گا مگر حقائق کچھ اور ہیں۔پہلے بیان کردہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی صورت حال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز کیا۔ اس کی ہٹ دھرمی کو تقویت دینے والی سب سے بڑی حقیقت امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی سیاسی و عسکری پشت پناہی ہے۔ امریکہ نے کئی مرتبہ سلامتی کونسل میں فلسطین کے حق میں پیش ہونے والی قراردادوں کو ویٹو کیا۔ اس دوہرے معیار نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتا رہے۔مسلم ممالک اگرچہ اقوامِ متحدہ میں اکثریت رکھتے ہیں، مگر باہمی اختلافات اور مفادات کی سیاست نے انہیں کمزور کر رکھا ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر وقتی احتجاج تو کیا جاتا ہے، لیکن طویل المدتی اور موثر حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ہر بار مضبوط مؤقف اختیار کرتا ہے اور مسلم دنیا کمزور نظر آتی ہے۔یہ حقیقت واضح ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں صرف اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہیں جب بڑی طاقتیں اپنے دوہرے معیار سے دستبردار ہو کر انصاف پر مبنی پالیسی اپنائیں۔مسلم ممالک مشترکہ مؤقف اختیار کر کے اسرائیل پر سیاسی و معاشی دباؤ ڈالیں اور اقوامِ متحدہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے عملی میکانزم وضع کرے، محض الفاظ اور اعلانات پر اکتفا نہ کرے۔اگر دنیا نے اب بھی اسرائیل کی ہٹ دھرمی کو نظرانداز کیا تو نہ صرف فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ہر وہ ملک جو اسرائیل کی پالیسی سے اختلاف رکھتا ہے،وہ اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بن سکتا ہے۔

