محمد مظہرشید چودھری
(یہ تحریر جنوری 2025 کے سالانہ کھیلوں کے مقابلہ جات کے بعد قلمبند کی گئی)
اوکاڑہ کی علمی اور ادبی فضاؤں میں گزشتہ دنوں ایک خوشگوار اور ولولہ انگیز منظر دیکھنے کو ملا جب ’گورنمنٹ گریجوایٹ کالج اوکاڑہ‘ میں ’ساہی ایتھلیٹکس اکیڈمی‘ کے زیرِ اہتمام دوروزہ ایتھلیٹکس مقابلہ جات اختتام پذیر ہوئے۔ یہ مقابلے محض کھیلوں کا اظہار نہیں تھے بلکہ نئی نسل کی توانائی، عزم اور محنت کی زندہ تصویر تھے۔اس تقریب کی میزبانی پرنسپل پروفیسر عبدالرؤف نے نہایت خوش اسلوبی سے کی، جبکہ اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر اوکاڑہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین تھے۔ ان کے ساتھ مہمانانِ اعزاز میں سابق صوبائی وزیر محمد اشرف خان سوہنا، انجمن تاجران اوکاڑہ کے صدر شیخ ریاض انور، سلطان محمود گجر، ڈسٹرکٹ آفیسر سکینڈری ایجوکیشن جمیل احمد رضوی، اور ریجنل مینجر ٹورزم ڈیپارٹمنٹ میاں سہیل انور جیویکا شامل تھے۔ ان تمام معزز مہمانوں کا استقبال کالج کے پرنسپل نے صدر ساہی ایتھلیٹکس اکیڈمی مظہر ساہی اور جنرل سیکرٹری نعیم شوکت کے ہمراہ کیا۔سانچ کے قارئین کرام!اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر ریاض خان اور پرنسپل گورنمنٹ ہائی اسکول 34 جی ڈی عابد حسین نے ادا کیے، جنہوں نے تقریب کو نہایت خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا۔ اس دوروزہ ٹورنامنٹ میں انڈر 13 اور انڈر 16 کے طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی اور 100، 200، 400 اور 800 میٹر کی دوڑوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ مقابلے نہایت جوش و خروش سے جاری رہے اور اختتامی تقریب میں کامیاب کھلاڑیوں کو میڈلز اور شیلڈز سے نوازا گیا۔تقریب کے سب سے نمایاں پہلو میں سے ایک تھا وائس چانسلر اوکاڑہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کا خطاب۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کی نوجوان نسل زیادہ تر وقت موبائل فونز اور ڈیجیٹل دنیا میں صرف کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں کھیل جیسے تعمیری اور مثبت مشغلے پس منظر میں جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ طلبہ کے اندر ضبط، محنت، تعاون اور کردار سازی جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔پروفیسرڈاکٹر سجاد مبین نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی ادارہ وہ جگہ ہے جہاں سے کئی عظیم کھلاڑی نکلے جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی کی نمائندگی کی اور پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند کیا۔ ان میں سے بعض نے تو اولمپکس جیسے بڑے عالمی مقابلوں میں بھی ملک کی نمائندگی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر آج بھی ہمارے طلبہ کو سہولیات اور رہنمائی فراہم کی جائے تو یہ نئی نسل بھی کل پاکستان کا پرچم دنیا کے کھیلاڑیوں کے شانہ بشانہ لہرائے گی۔مزید برآں، پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) سے خصوصی گفتگو میں اس بات کا عندیہ دیا کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں بھی جلد کھیلوں کے ٹورنامنٹس کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے طلبہ کو اس موقع کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدانوں میں بھی اپنی شناخت بنا سکیں۔ یہ بات سن کر یقیناً ہر سننے والے کے دل میں ایک نئی امید جاگ اٹھی۔اس تقریب کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ ساہی ایتھلیٹکس اکیڈمی کے روحِ رواں /سماجی شخصیت مظہر ساہی نے نہ صرف نمایاں طلبہ و طالبات کو شیلڈز اور میڈلز سے نوازا بلکہ کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنی عملی کاوشوں کو بھی نمایاں کیا۔ اسی موقع پر مجھے بطور جرنلسٹ کھیلوں کی کوریج اور صحافتی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔ یہ لمحہ میرے لیے باعثِ افتخار تھا اور اس بات کی گواہی بھی کہ کھیلوں کی ترویج میں صحافت بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔اختتامی تقریب میں سماجی تنظیموں کے نمائندے، سول سوسائٹی کے افراد، مختلف اسکولز اور کالجز کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور صحافی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ان کی موجودگی نے تقریب کو عوامی رنگ دیا اور اس بات کا احساس دلایا کہ کھیل محض کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اثاثہ ہیں۔سانچ کے قارئین کرام! کھیل ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے محض جسمانی مشق نہیں بلکہ زندگی کی ایک بھرپور تربیت ہیں۔ کھیل طلبہ کو یہ سکھاتے ہیں کہ کامیابی محنت، صبر اور قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک دوڑنے والا جب ٹریک پر قدم رکھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی رفتار آزماتا ہے بلکہ اپنی برداشت اور قوتِ ارادی کو بھی آزما رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو زندگی کے دوسرے میدانوں میں بھی اسے کامیابی عطا کرتے ہیں۔یہ تقریب ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ معاشرے کو اپنی آئندہ نسل کے لیے ایک مثبت اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اگر ہم کھیلوں کو اپنے تعلیمی نصاب اور ادارہ جاتی سرگرمیوں میں دوبارہ زندہ کریں تو نہ صرف ہم ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے ملک کا نام روشن کریں گے۔کھیل ہمارے کل کو روشن بنانے کا زینہ ہیں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو کھیل کے میدانوں سے جوڑ دیں تو آنے والا پاکستان صحت مند، باحوصلہ اور کامیاب نسلوں کا وطن ہوگا٭۔
محمد مظہرشید چودھری(03336963372)

