کوئٹہ کی سڑکیں اور منصوبہ بندی

میر اسلم رند

کوئٹہ شہر میں جب سے کوئٹہ پیکج کا آغاز ہوا ہے عوام کو یقیناً سہولت اور شہر کی خوبصورتی میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ نئی تعمیر ہونے والی شاہراہیں اور کارنرز زیادہ تر زِگ زیگ کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ انجینئرنگ کی کمزوری ہے یا پھر اثرورسوخ رکھنے والے افراد کے دباؤ کا نتیجہ۔ طاقتوروں کی عمارتیں جوں کی توں رہتی ہیں جبکہ کمزور مالکان کی دیواریں کئی فٹ پیچھے کر دی جاتی ہیں۔

سبزل روڈ کی تعمیر کے دوران ایسے ہی معاملات سامنے آئے تھے، جہاں پروجیکٹ ڈائریکٹر پر کرپشن اور من پسند فیصلوں کے سنگین الزامات لگے۔ خوش قسمتی سے جب ڈویژنل کمشنر اسفند یار کاکڑ تعینات ہوئے تو انہوں نے سخت محنت کے ساتھ سبزل روڈ کو مکمل کروایا اور کوئٹہ میں کئی اور منصوبے بھی آگے بڑھائے۔ بعد میں حمزہ شفقات نے بھی مین شاہراہوں کو مکمل کروا کے شہر کو نئی خوبصورتی دی۔ افسوس یہ ہے کہ جو افسران دلجمعی سے کام کرتے ہیں، انہیں بیچ میں ہی ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ بارش کے پانی کی نکاسی کا ہے۔ پرانے زمانے کے انجینئرنگ ڈیزائن میں سڑکوں کے دونوں اطراف سے بارش کے پانی کے اخراج کا نظام شامل ہوتا تھا، لیکن آج کے انجینئر، جن میں سے اکثر کوئٹہ کے مقامی نہیں، اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ موجودہ منصوبوں میں بڑے بڑے نالے تو بنائے گئے ہیں مگر انہیں اوپر سے کور کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پہاڑوں کا پانی یا روزمرہ کا گند ان نالوں میں جمع ہوگا تو اس کی صفائی کیسے ممکن ہوگی؟ شہریوں کو اس حوالے سے رہنمائی اور شفاف وضاحت درکار ہے۔

آخر میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غریب افغان مہاجرین کو گھروں سے نکال کر واپس بھیجا جا رہا ہے جبکہ وہ سرمایہ دار، جنہوں نے جعلی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں، آج بھی زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ یہ کھلا تضاد اور ناانصافی ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ترقی کے یہ منصوبے حقیقتاً عوامی فلاح کا ذریعہ بن سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں