سنی گر ڈیم کی تعمیری لاگت چار ارب سے بارہ ارب کو پہنچی ریوائز (Revised) منصوبے پر اپوزیشن لیڈر کی گن گرج کے بعد اچانک خاموشی

صدام بلوچ
بلوچستان اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی جانب سے سنی گر ڈیم ریوائز (Revised) منصوبے پر کی گئی دھواں دھار تقریر لمحہ بھر کے لیے صوبے کی سیاست کو گرما گئی بلند آہنگ جملے سخت الفاظ اور حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید نے ایوان میں گونج دار تالیاں اور شور برپا کیا مگر افسوس کہ چند دنوں بعد وہی گن گرج یکدم خاموشی میں بدل گئی

خضدار شہر سمیت بلوچستان بھر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ڈیم کی تعمیری لاگت چار ارب سے بڑھ کر بارہ ارب روپے تک جا پہنچی ہے اور اس میں بے ضابطگیاں ٹھیکیداری میں اقربا پروری یا شفافیت کا فقدان ہے تو اپوزیشن لیڈر نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھانے کے بعد عملی طور پر آگے کیوں نہ بڑھایا
کیا الزامات کو تحریری شکل میں کمیٹیوں کے سامنے رکھا گیا
کیا ثبوت اور دستاویزات عوام کے سامنے لائی گئیں
یا یہ سب محض ایک سیاسی شو تھا جو چند لمحوں کے لیے کیمروں کی روشنیوں میں جگمگا کر بجھ گیا اور ٹک ٹاک اور فیس بک ریلیز کو خوب لائکس مل گئی

سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا پی ایس ڈی پی میں چند مزید اسکیموں کی امید
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسمبلی میں کوئی منصوبہ موضوعِ بحث بنا اور پھر چند دن بعد اس پر پردہ ڈال دیا گیا لیکن سنی گر ڈیم جیسا منصوبہ بلوچستان کے مستقبل اور عوامی وسائل سے جڑا ہوا ہے اس پر خاموشی زیادہ سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ صرف تقریروں تک محدود نہ رہے بلکہ عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے عملی اور مسلسل پیروی کرے تاکہ یہ واضح ہو کہ یہ سب محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا پھر پی ایس ڈی پی میں چند مزید اسکیموں کے ملنے کی امیدوں کے تحت نہیں کیا گیا

بلوچستان کے عوام پہلے ہی ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر لاگت کے بڑھنے اور معیار پر سوالات سے مایوس ہیں ایسے میں جب اپوزیشن لیڈر خود ایوان میں بڑے دعوے کرتے ہیں اور پھر چند دن بعد موضوع کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں تو عوامی اعتماد مزید مجروح ہوتا ہے عوامی نمائندوں سے یہ توقع ہے کہ وہ صرف گرج دار جملوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ الزامات کی پیروی کریں شواہد سامنے لائیں اور احتسابی اداروں کو متحرک کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں

یہ صورتحال نہ صرف اپوزیشن بلکہ مجموعی طور پر سیاسی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے اگر ایوان میں شور شرابا محض وقتی شہرت کے لیے ہوتا رہا تو عوام کا یقین مزید کمزور ہوگا ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن لیڈر اپنی تقریر کے بعد بھی اس معاملے پر ڈٹے رہیں کمیٹیوں میں سوالات اٹھائیں شواہد پیش کریں اور عوام کو یہ باور کرائیں کہ وہ محض تقریر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ جدوجہد کے لیے میدان میں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں