خورشید نگوری کا انتقال: ادب، سیاست اور سماجی خدمت کا روشن باب بند

نادر قدوس

جناب خورشید نگوری کے انتقال کی خبر نہایت افسوس اور رنج کے ساتھ ملی۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو قلم، فکر اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کا شمار اُن ادیبوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بلوچ سیاست، میر غوث بخش بزنجو کی جدوجہد اور بلوچی زبان و ادب پر گہرے فکری اور تحقیقی کام کیے۔ ان کی تحریریں نہ صرف آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی سرمایہ ہیں بلکہ بلوچ قوم کی فکری شناخت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
خورشید نگوری کی سیاسی جدوجہد بھی ان کی شخصیت کا روشن باب ہے۔ وہ نہ صرف ایک نظریاتی کارکن رہے بلکہ اپنی یوسی کے عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی ہمہ وقت سرگرم رہے۔ ان کی قیادت میں عوام کو ایک ایسے رہنما کی صورت ملی جو خدمت کو سیاست پر مقدم رکھتا تھا۔ عوامی نمائندے کی حیثیت سے انہوں نے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری، اخلاص اور محنت کے ساتھ ادا کیں۔
ان کی وفات سے ادب، سیاست اور سماجی خدمت کے میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جو مدتوں پُر نہ ہو سکے گا۔ ان کا قلم اور ان کی جدوجہد بلوچ عوام کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین و عزیزان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں